Bayan-ul-Quran - Al-Baqara : 282
وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠   ۧ
وَاتَّقُوْا : اور تم ڈرو يَوْمًا : وہ دن تُرْجَعُوْنَ : تم لوٹائے جاؤگے فِيْهِ : اس میں اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف ثُمَّ : پھر تُوَفّٰى : پورا دیا جائیگا كُلُّ نَفْسٍ : ہر شخص مَّا : جو كَسَبَتْ : اس نے کمایا وَھُمْ : اور وہ لَا يُظْلَمُوْنَ : ظلم نہ کیے جائیں گے
اور اگر تم کہیں سفر میں ہو اور (وہاں) کوئی کاتب نہ پاؤ سو رہن رکھنے کی چیزیں (ہیں) جو قبضہ میں دیدی جائیں (ف 2) اور اگر ایک دوسرے کا اعتبار کرتا ہو تو جس شخص کا اعتبار کرلیا گیا ہے (یعنی مدیون) اس کو چاہئیے کہ دوسرے کا حق (پوراپورا) ادا کردے اور اللہ تعالیٰ سے جو کہ اس کا پروردگار ہے ڈرے اور شہادت کا اخفاء مت کرو اور جو شخص اس کا اخفا کرے گا اس کا قلب گنہگار ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے کیے ہوئے کاموں کو خوب جانتے ہیں۔ (ف 3) (283)
2۔ جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ رہن جس طرح سفر میں جائز ہے حضر میں بھی جائز ہے یہاں ذکر میں تخصیص سفر کی اس وجہ سے ہے کہ سفر میں اس کی ضرورت بہ نسبت حضر کے زیادہ پڑے گی۔ مسئلہ۔ جو چیز رہن رکھی جائے اس پر جب تک مرتہن کا قبضہ نہ ہوجائے وہ رہن نہیں ہوتا۔ 3۔ شہادت کا اخفاء دو طرح سے ہے ایک یہ کہ بالکل بیان نہ کرے دوسرے یہ کہ غلط بیان کرے دونوں میں اصل واقعہ مخفی ہوگیا اور دونوں صورتیں حرام ہیں۔ جب کسی حق دار کا حق بدون اس کی شہادت کے ضائع ہونے لگے اور وہ درخواست بھی کرے تو اس وقت ادائے شہادت سے انکار حرام ہے چونکہ ادائے شہادت واجب ہے لہذا اس پر اجرت لینا جائز نہیں البتہ آمد ورفت کا خرچ اور خوراک بقدر حاجت صاحب معاملہ کے ذمہ ہے اگر زیادہ آجائے تو بقیہ واپس کردے۔
Top