Mazhar-ul-Quran - Al-Waaqia : 41
وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ
وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ : اور بائیں ہاتھ والے مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ : کیا ہیں، بائیں ہاتھ والے
اور2 جو بائیں طرف والے ہیں، بس وہ بائیں طرف والے کیسے (برے حال میں) ہیں۔
(ف 2) مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا کہ ان دوزخیوں کا کیا پوچھنا وہ تو نہایت ہی ذلت والے ہیں ان کو بہت سخت عذاب ہے کبھی سموم میں جائیں گے ۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلادیتی ہے۔ زقوم وہ کانٹوں دار درخت دوزخ میں ہوگا جو بھوک کے وقت دوزخیوں کوکھلایاجائے گا معتبر سند سے بیہقی ، مسند امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور ابی درداء سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا جب زقوم اہل دوزخ کوکھلایاجائے گا اور اس کو کانٹے ان کے حلق میں پھنسیں گے تو ایسا گرم پانی پلایاجائے گا جس سے ان کی انتڑیاں کٹ کر نکل پڑیں گی سورت والمرسلات میں آئے گا کہ حساب سے فارغ ہونے تک ایسے لوگوں پر دوزخ کی آگ کا دھواں سایہ کی طرح چھایاجا رہے گا جس میں بڑی بڑی چنگاڑیاں آگ کی ان لوگوں پر جھڑتی رہیں گی ۔ اسی کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اس دھوئیں کے سایہ میں نہ تو کچھ ٹھنڈک ہے نہ وہ سایہ کچھ ان کی عزت بڑھانے کے لیے ہوگا، بلکہ وہ تو ان پر آگ کی چنگاریاں برسانے کا ایک بادل ہوگا، ان آیتوں میں ایسے لوگوں کے عذاب میں پکڑے جانے کا سبب بھی بتلادیا کہ یہ لوگ اپنی خوشحالی میں ایسے بدمست ہوگئے تھے کہ اللہ کی عبادت میں بتوں کو شریک کرتے تھے اور دنیا کی خوشحالی کے نشہ میں عقبی کے منکر تھے۔ حالانکہ اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ اس طرح کے سب اگلے پچھلے کو جمع کرکے ان کو زقوم اور کھولتا پانی اس طرح کھلایا پلایاجایاکرے گا، جس طرح اصرار سے مہمان کو کھانا پانی کھلایاپلایاجاتا ہے۔ پھر جب زقوم کے کھانے سے پیٹ میں آگ لگے گی اور اس سے پیاس معلوم ہوگی تو پانی پئیں گے ۔ جیسے کہ اونٹ پیاسے بےاختیار ہوکر پیتا ہے جس کے پیتے ہیں ان کی آنتیں کٹ کٹ کر گرپڑیں گی لیکن اس پانی کے پینے سے کبھی سیراب نہ ہوں گے اور یہ زقوم ورپانی قیامت کے دن وہ کھانا اور پینا ہے جو اول ہی روز ان کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اس کے بعد طرح طرح کے کھانے وپینے عذاب بھرے ہوئے ملیں گے ۔ صحیح مسلم کی انس بن مالک کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا دوزخ کا تفصیلی حال جو کچھ مجھ کو معلوم ہے وہ اگر تم لوگوں کو معلوم ہوجائے تو تمہاری ہنسی کم ہوجائے اور ہر وقت تم روتے رہو، اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کا انتظام قائم رہنے کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق نبی نے دوزخ کا جوحال بیان فرمایا ہے وہ مختصر ہے ، تفصیلی بیان دوزخ کا اس سے بہت زیادہ ہے۔
Top