Al-Qurtubi - Al-Waaqia : 41
وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ
وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ : اور بائیں ہاتھ والے مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ : کیا ہیں، بائیں ہاتھ والے
اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں
(واصحب الشمال۔۔۔۔۔۔۔ ) واصحب الشمال ما اصحب الشمال۔ اہل نار کی منازل کا ذکر کیا اور انہیں اصحاب شمال کا نام دیا کیونکہ وہ اپنی کتابیں اپنے بائیں ہاتھ میں لیں گے۔ پھر بلاء اور عذاب میں ان کے ذکر کو بڑھ کر بیان کیا۔ فرمایا :” فی سموم، سموم سے مراد گرم ہوا ہے جو بدن کے مساموں میں داخل ہوتی ہے۔ یہاں اس سے مراد آگ کی گرمی اور اس کی لپک ہے۔ وحیم۔ گرم پانی جس کی گرمی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہو۔ جب آگ ان کے جگر اور ان کے جسم کو جلا دے گی تو وہ کھولتے ہوئے پانی کی طرف جلدی سے جائیں گے جس طرح ایک آدمی آگ سے بھاگ کر پانی کی طرف جاتا ہے تاکہ اس کے ساتھ آگ کو بجھائے تو وہ سخت گرم پاتا ہے جو گرمائش اور جوش مارنے میں انتہاء کو پہنچا ہوتا ہے۔ یہ بحث وسقواماء حمیما فقطع امعاء ھم۔ ( محمد) میں گزر چکی ہے۔
Top