Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Al-Waaqia : 41
وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ
وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ
: اور بائیں ہاتھ والے
مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ
: کیا ہیں، بائیں ہاتھ والے
اور بائیں ہاتھ والے ، کیا ہی برے ہیں بائیں ہاتھ والے
ربط آیات : سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر اور اس کی ابتدائی کیفیت بھی بیان فرمائی۔ پھر انسانوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہوجانے کا ذکر کیا ، جن میں سے دو گروہ کامیاب ہوں گے اور تیسرا گروہ ناکام ہوگا۔ کامیاب ہونے والوں میں سابقین تو بڑے بلند درجوں میں ہوں گے ، اور اصحاب یمین بھی اللہ کی رحمت کے مقام میں آرام و راحت میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بیشمار نعمتیں عطا کرے گا۔ سابقین پہلی امتوں میں زیادہ ہوں گے کیونکہ ان میں اللہ کے نبی بھی شامل ہوں گے اور پچھلی امت میں ان کی تعداد نسبتاً کم ہوگی ۔ البتہ اصحاب یمین پہلوں اور پچھلوں سب میں بکثرت ہوں گے۔ اصحاب شمال کا حال : کامیاب ہونے والے دونوں گروہوں کا ذکر کرنے کے بعد اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے تیسرے ناکام گروہ اصحاب شمال یعنی بائیں ہاتھ والوں کا حال بیان فرمایا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں ملے گا اور وہ قیامت والے دن بائیں طرف ہی جائیں گے ۔ ارشاد ہوتا ہے واصحب الشمال ، ما اصحب الشعال اور بائیں ہاتھ والے ، اور بائیں ہاتھ والوں کی کیسی بری حالت فی سموم وحمیم وہ تندوتیز ہوا اور گرم پانی میں ہوں گے۔ باد سموم آگ جیسی گرم ہوا کو کہتے ہیں جس کے لگنے سے جسم جھلس جائے یا ضربہ شمسیہ (Sun strAke) ہوجائے۔ تیزگرم ہوا سے گردن کے پٹھے مارے جاتے ہیں اور انسان کی ہلاکت کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اس لئے گرم ممالک کے لوگ رومال سے گردن کو ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔ تو فرمایا کہ اصحاب شمال کو ایک تو تندوتیز اور گرم ہوا سے واسطہ پڑے گا اور پھر جب پیاس ستائے گی تو انہیں پینے کے لئے کھولتا ہوا گرم پانی دیا جائے گا۔ اگر ورہ اس کا ایک گھونٹ پی لیں گے تو وہ آنتوں کو کاٹ کر نیچے پھینک دے گا۔ سورة المرسلت میں ہے کہ ان لوگوں کو کہا جائے گا انطلقوا الی ظل ذی ثلث شعب دوزخ کی طرف تین شاخوں والے دھوئیں کی طرف چلو۔ فرمایا وظل من یحموم وہ لوگ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔ یہ دھواں بڑا پریشان کن ہوگا۔ سورة المرسلت میں فرمایا تلا ظلیل ولا یغنی من الھم یہ دھواں ایسا ہوگا ، جس کا سایہ ہی نہیں ہوگا ، اور نہ یہ تپش اور گرمی سے بچا سکے گا۔ بلکہ انھا ترمی بشرر کا لقصر اس میں سے محلات جتنی بڑی بڑی چنگاریاں نکلیں گی۔ جو ایسے لوگوں پر پڑیں گی۔ غرضیکہ اصحاب شمال کی تکلیف اور پریشانی کا یہ حال ہوگا۔ آگے اس دھویں کا مزید حال بیان کیا لا بارد ولا کریم یہ دھواں نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ عزت والا یعنی نہ ہی راحت پہنچانے والا۔ اگر دھواں صرف تاریک ہوا اور اس میں گرمی نہ ہو تو پھر بھی کسی حد تک قابل برداشت ہوسکتا ہے مگر جس دھوئیں کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے ، وہ دوزخ کی آگ کا سیاہ دھواں ہوگا جس میں ناقابل برداشت حد تک تاریکی اور تپش ہوگی۔ جو ذلت و خواری کا باعث بنے گا۔ بہرحال بائیں ہاتھ والے جھلسادینے والی تیز ہوا اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان ہی چکر لگاتے رہیں گے ، جس سے انہیں سخت تکلیف پہنچے گی۔ پچھلی سورة الرحمن میں بھی گزر چکا ہے یطوفون… ………………حمیم ان (آیت 44) وہ دوزخ اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکر لگاتے رہیں گے اور اس طرح وہ اللہ کے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ سزا کی وجوہات (1) آسودہ حالی : اللہ نے اس سزا کی وجوہات بھی بیان فرمائی ہیں۔ انھم کانوا قبل ذلک مترفین یہ پہلی وجہ ہے کہ یہ لوگ اس سے پہلے یعنی دنیا کی زندگی میں آسودہ حال تھے ، اور اسی بنا پر یہ عیش و عشرت میں پڑے ہوئے تھے ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان نہیں لاتے تھے اور وقوع قیامت اور جزائے عمل کا انکار کرتے تھے۔ عالم طور پر دنیا میں یہی آسودہ حالی بےدینی کا باعث بنتی رہی ہے اور ایسے لوگ انبیاء (علیہم السلام) کا نہ صرف انکار کرتے رہے ہیں بلکہ ان کا مقابلہ کرتے آئے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کی تین حالتوں میں سے درمیانی حالت ہی مطلوب ہے ، اور دینی لحاظ سے یہی حالت بہتر ہے۔ فرمایا بعض لوگ رفاہیت بالغہ یعنی حد سے زیادہ آسودہ حالی کا شکار ہو کر تعیش (Luxury) میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کاملہ کو بھول جاتے ہیں پرانے زمانے کے قیصروکسریٰ اور موجود دور کے امراء و سلاطین اور صاحب اقتدار وزیر اور مشیر اسی بیماری کی وجہ سے ناکام ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص عیش و عشرت میں پڑجاتا ہے تو پھر اس کے لئے ہر جائز وناجائز ذرائع استعمال کرتا ہے۔ وہ اپنے کارندوں سے جانوروں کی طرح کام لیتا ہے اور معاوضہ کم دیتا ہے حتیٰ کہ ان بیماروں کو آخرت کے متعلق سوچنے کا موقع بھی نہیں ملتا چہ جائیکہ ، وہ اس کے لئے کچھ تیاری کریں۔ تعیش کے طور پر بہترین مکان ، بہترین سواری ، بہترین کھانا اور بہترین کپڑا تمدن کو بگاڑنے والی چیزیں ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے ان عباد اللہ لیسو بالمتنعمین یعنی اللہ کے بندے تعیش پسند نہیں ہوتے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ رفاہیت بالغہ اور تتمشف دونوں حالتیں غلط ہیں۔ البتہ بہترین حالت تیسری ہے جس کے متعلق نبی (علیہ السلام) نے فرمایا خیر الامور اوسطھا یعنی بہترین امور درمیانی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پرتکلف مکان کی بجائے ایک معمولی مکان میں بھی گزرا اوقات ہوسکتی ہے۔ عام سواری ، معمولی لباس اور عام کھانا بھی انسان کے لئے کافی ہوتا ہے۔ بلاوجہ تکلفات میں پڑنا درست نہیں۔ خود حضور ﷺ کبھی تکلف نہیں فرماتے تھے ، جیسا لباس مل گیا پہن لیا۔ آپ کے پاس ایک نہایت قیمتی جوڑا بھی تھا جس پر ستائیس اونٹ خرچ آتا تھا ، اس کو بھی آپ نے بعض مواقع پر استعمال کیا ہے۔ تاہم عام حالات میں آپ کا لباس معمولی قسم کا ہوتا تھا۔ خوراک کا بھی یہی حال تھا۔ آ پنے کبھی بہترین خوراک کی خواہش نہیں کی بلکہ جیسا مل گیا کھالیا۔ خلفائے راشدین ؓ بھی درمیانی حالت کا مجسم نمونہ تھے اور انہوں نے یہی چیز رائج کی۔ تو یہ مترف لوگ اکثر دین کے مخالف ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف ابتداء میں دین کو قبول کرنے والے عموماً غریب غرباء لوگ ہی ہوتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے بدالا سلام غریبا وسیعود کما بدا ، اسلام غریب لوگوں سے شروع ہوا ، اور آخر میں بھی یہ غرباء میں ہی سمٹ کر آجائے گا۔ حضرت وحیہ کلبی ؓ جب حضور ﷺ کا نامہ مبارک لے کر روم گئے ، تو وہاں کے بادشاہ ہر قل نے ابو سفیان ؓ سے پوچھا جو اس وقت ایمان نہیں لائے تھے۔ کہ اس نبی کے پیروکار کیسے ہیں یعنی بڑے لوگ ہیں یا غریب طبقہ ، تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ ان میں سے اکثر کمزور لوگ ہیں۔ اس پر ہر قل نے کہا وھم اتباع الرسل یعنی انبیاء کے پیروکار اکثر کمزور لوگ ہی ہوتے ہیں۔ بڑے لوگ اس وقت ایمان قبول کرتے ہیں۔ جب بالکل مجبور ہوجاتے ہیں یا پھر مقابلے میں ہار جاتے ہیں۔ (2) گناہ پر : اللہ نے اصحاب شمال کی جہنم رسیدگی کی دوسری وجہ یہ بیان کی ہے وکانوا یصرون علی الحنث العظیم کہ وہ بڑے گناہ پر اصرار کرتے تھے۔ حنث کا معنی گناہ ہوتا ہے ، اور حانث اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی قسم توڑ کر گنہگار بن جاتا ہے۔ تاہم اس مقام پر حنث العظیم سے مراد شرک اور کفر ہیں۔ جس پر یہ لوگ دنیا میں اصرار کرتے رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ای ذنب اعظم یعنی سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ، تو حضور ﷺ نے فرمایا ، بڑا گناہ یہ ہے ان تجعل للہ ندا وھو خلقک کہ تو اللہ کا شریک ٹھہرائے۔ حالانکہ اسی نے تجھے پیدا کیا ہے۔ سورة لقمان میں ہے ان الشرک………عظیم (آیت 130) اور سورة بقرہ میں اللہ کا ارشاد ہے ، والکفرون ھم الظلمون (آیت 254) گویا شرک اور کفر ہی سب سے بڑے ظلم یعنی گناہ ہیں ، اور حنث عظیم سے یہی مراد ہے۔ اصحاب شمال انہی پر اصرار کرتے تھے۔ مسلم شریف کے مقدمہ میں امام مسلم (رح) نے لکھا ہے کہ ان کے استاد نے اپنے استاد حضرت جریر محدث (رح) سے ایک راوی حارث بن حصیرۃ کے متعلق پوچھا کہ وہ کیسا راوی ہے تو انہوں نے فرمایا ھو شیخ طویل السکوت یصر علی امر عظیم وہ ایک شیخ ہے جو اکثر خاموش رہتا ہے مگر امر عظیم پر اصرار کرتا ہے اور امر عظیم سے مراد یہ ہے کہ وہ رافضی تھا ، اور رافضیوں میں رجعت کا یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ قرب قیامت میں مسیح (علیہ السلام) کی بجائے حضرت علی ؓ دنیا میں دوبارہ آئیں گے ، وہ عدل و انصاف قائم کریں گے۔ نیز حضرت ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کی قبول کو اکھاڑ کر ان کی نعشوں کو نکالیں گے اور سولی پر لٹکائیں گے۔ وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بھی انتقام لیں گے کیونکہ رافضیوں کے زعم کے مطابق حضرت صدیقہ ؓ حضرت فاطمہ ؓ سے نفرت کرتی تھی ، العیاذ باللہ۔ تو امر عظیم سے مراد یہ فاسد عقیدہ ہے ۔ غرضیکہ حضرت جریر (رح) نے فرمایا کہ میں اس راوی کو جانتا ہوں۔ وہ امر عظیم پر اصرار کرنے والا ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اصحاب شمال اس لئے سزا کے مستحق ٹھہرے کہ وہ حنث عظیم پر مصر تھے۔ (3) بعث بعدالموت کا انکار : اللہ نے تیسری وجہ یہ بیان فرمائی ہے وکانوا یقولون اور یہ لوگ یو کہا کرتے تھے ائذا متنا وکنا ترابا وعظاماء انا لمبعوثون ، کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل جائیں گے ، اور ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ او ابائونا الاولون یا ہمارے اگلے آبائو اجداد بھی دوبارہ جی اٹھیں گے۔ حالانکہ آج تک تو ہم نے کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمای قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں ان الاولین والا خرین بیشک اگلے بھی اور پچھلے بھی لمجموعون البتہ سب کے سب اکٹھے کیے جائیں گے الیٰ میقات یوم معلوم ایک مقررہ دن کے وعدے پر ، اور یہ وہی قیاتم کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ سب کو زندہ کرکے اپنے سامنے کھڑا کرلے گا۔ پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی اور جزا وسزا کے فیصلے ہوں گے۔ مگر اصحاب شمال اس کا انکار کرتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ انہیں عذاب میں مبتلا ہونا پڑا۔ اصحابشمال کے لئے سزا : آگے اللہ نے ان لوگوں کو مزید تفصیلات بیان فرمائی ہیں کہ جب قیامت کا مقررہ دن آجائے گا۔ ثم انکم ایھا الضالون المکذبون تو پھر تم اے بہکے ہوئے لوگوں جو تکذیب کرتے ہو۔ ایمان ، توحید ، رسالت اور قیامت کو جھٹلاتے ہو ، یاد رکھو ! جہنم میں تمہیں یہ سزا دی جائیگی لا کلون من شجر من زقوم کہ تم ھوہر کے درخت سے کھانے والے ہوگے۔ جب تمہیں بھوک ستائے گی تو کھانے کے لئے تھوہر کا پھل دیا جائے گا۔ جو نہایت ہی کڑوا اور تکلیف دہ ہوگا۔ اس درخت کا ذکر قرآن میں کئی مقامات پر آیا ہے۔ مثلاً : سورة الدخان میں فرمایا ان شجرۃ الزقوم طعام الاثیم گنہگاروں کا کھانا تھوہر کا درخت ہوگا جو حلق میں پھنس کر رہ جائے گا۔ فرمایا یہ لوگ فمالون منھا البطون اسی تھوہر سے پیٹوں کو بھرنے والے ہوں گے ۔ بھوک کو مٹانے کے لئے تھوہر کا درخت ملے گا ؟ اور پھر کب پیاس ستائے گی فشار بون علیہ من الحمیم تو کھولتا ہوا پانی پینے والے ہوں گے فشاربون شرب الھیم پس وہ تون سے ہوئے اونٹ کی طرح پینے والے ہوں گے۔ گرم ممالک میں جہاں نقل وحمل اونٹ پر موقوف ہے۔ وہاں پانی کی کمی کی وجہ سے اونٹوں کو عموماً پانچویں دن پانی پر لے جایا جاتا ہے۔ اور وہ پانی پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اصحاب شمال کے متعلق بھی فرمایا کہ سخت پیاس کی وجہ سے وہ پیاسے اونٹوں کی طرح پانی پئیں گے۔ بعض فرماتے ہیں۔ کہ انسانوں میں استسقا جیسی بیماری اونٹوں میں پائی جاتی ہے۔ اس بیماری کے وران انسان یا جانور کو سخت پیاس لگتی ہے مگر وہ کتنا بھی پانی پی جائے اس کی پیاس دور نہیں ہوتی۔ بلکہ ہر بار پانی پینے سے پیاس میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ اونٹوں میں یہ تونس کی بیماری کہلاتی ہے تو فرمایا جہنمی لوگ پانی پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گے جیسے تونس کی بیماری والے اونٹ پانی پیتے ہیں۔ مگر یہ کھولتا ہوا پانی اتنا بدمزہ اور تکلیف دہ ہوگا کہ اس کا ایک گھونٹ آنتوں کو کاٹ کر باہر پھینک دے گا۔ فرمایا ھذا نزلھم یوم الدین انصاف کے دن ایسے لوگوں کی یہی مہمان نوازی ہوگی۔ اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے تحکمانہ طور پر مہمان نوازی کا نام دیا ہے عربی ادب میں تکلیف دہ چیز کو مجازی طور پر مہمان نوازی سے تعبیر کیا جاتا ہے عرت لوگ کہتے ہیں ؎ وکنا اذا الجبار بالجیش ضلغتا جعلنا القنا والمرھفات لہ نزلہ جب کوئی جبار آدمی عظیم لشکر لے کر ہمارا مہمان بنتا ہے یعنی ہم پر چڑھائی کرتا ہے ، تو ہم اس کی مہمان نوازی نیزوں اور تیز تلواروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اسی محاورے کے مطابق اللہ نے گنہگاروں کی سزا کو مہمان نوازی کے ساتھ تعبیر کیا ہے فرمایا ان کی مہمان نوازی ان سزائوں کے ساتھ کی جائے گی۔
Top