Mualim-ul-Irfan - Al-Waaqia : 41
وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ
وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ : اور بائیں ہاتھ والے مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ : کیا ہیں، بائیں ہاتھ والے
اور بائیں ہاتھ والے ، کیا ہی برے ہیں بائیں ہاتھ والے
ربط آیات : سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر اور اس کی ابتدائی کیفیت بھی بیان فرمائی۔ پھر انسانوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہوجانے کا ذکر کیا ، جن میں سے دو گروہ کامیاب ہوں گے اور تیسرا گروہ ناکام ہوگا۔ کامیاب ہونے والوں میں سابقین تو بڑے بلند درجوں میں ہوں گے ، اور اصحاب یمین بھی اللہ کی رحمت کے مقام میں آرام و راحت میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بیشمار نعمتیں عطا کرے گا۔ سابقین پہلی امتوں میں زیادہ ہوں گے کیونکہ ان میں اللہ کے نبی بھی شامل ہوں گے اور پچھلی امت میں ان کی تعداد نسبتاً کم ہوگی ۔ البتہ اصحاب یمین پہلوں اور پچھلوں سب میں بکثرت ہوں گے۔ اصحاب شمال کا حال : کامیاب ہونے والے دونوں گروہوں کا ذکر کرنے کے بعد اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے تیسرے ناکام گروہ اصحاب شمال یعنی بائیں ہاتھ والوں کا حال بیان فرمایا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں ملے گا اور وہ قیامت والے دن بائیں طرف ہی جائیں گے ۔ ارشاد ہوتا ہے واصحب الشمال ، ما اصحب الشعال اور بائیں ہاتھ والے ، اور بائیں ہاتھ والوں کی کیسی بری حالت فی سموم وحمیم وہ تندوتیز ہوا اور گرم پانی میں ہوں گے۔ باد سموم آگ جیسی گرم ہوا کو کہتے ہیں جس کے لگنے سے جسم جھلس جائے یا ضربہ شمسیہ (Sun strAke) ہوجائے۔ تیزگرم ہوا سے گردن کے پٹھے مارے جاتے ہیں اور انسان کی ہلاکت کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اس لئے گرم ممالک کے لوگ رومال سے گردن کو ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔ تو فرمایا کہ اصحاب شمال کو ایک تو تندوتیز اور گرم ہوا سے واسطہ پڑے گا اور پھر جب پیاس ستائے گی تو انہیں پینے کے لئے کھولتا ہوا گرم پانی دیا جائے گا۔ اگر ورہ اس کا ایک گھونٹ پی لیں گے تو وہ آنتوں کو کاٹ کر نیچے پھینک دے گا۔ سورة المرسلت میں ہے کہ ان لوگوں کو کہا جائے گا انطلقوا الی ظل ذی ثلث شعب دوزخ کی طرف تین شاخوں والے دھوئیں کی طرف چلو۔ فرمایا وظل من یحموم وہ لوگ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔ یہ دھواں بڑا پریشان کن ہوگا۔ سورة المرسلت میں فرمایا تلا ظلیل ولا یغنی من الھم یہ دھواں ایسا ہوگا ، جس کا سایہ ہی نہیں ہوگا ، اور نہ یہ تپش اور گرمی سے بچا سکے گا۔ بلکہ انھا ترمی بشرر کا لقصر اس میں سے محلات جتنی بڑی بڑی چنگاریاں نکلیں گی۔ جو ایسے لوگوں پر پڑیں گی۔ غرضیکہ اصحاب شمال کی تکلیف اور پریشانی کا یہ حال ہوگا۔ آگے اس دھویں کا مزید حال بیان کیا لا بارد ولا کریم یہ دھواں نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ عزت والا یعنی نہ ہی راحت پہنچانے والا۔ اگر دھواں صرف تاریک ہوا اور اس میں گرمی نہ ہو تو پھر بھی کسی حد تک قابل برداشت ہوسکتا ہے مگر جس دھوئیں کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے ، وہ دوزخ کی آگ کا سیاہ دھواں ہوگا جس میں ناقابل برداشت حد تک تاریکی اور تپش ہوگی۔ جو ذلت و خواری کا باعث بنے گا۔ بہرحال بائیں ہاتھ والے جھلسادینے والی تیز ہوا اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان ہی چکر لگاتے رہیں گے ، جس سے انہیں سخت تکلیف پہنچے گی۔ پچھلی سورة الرحمن میں بھی گزر چکا ہے یطوفون… ………………حمیم ان (آیت 44) وہ دوزخ اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکر لگاتے رہیں گے اور اس طرح وہ اللہ کے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ سزا کی وجوہات (1) آسودہ حالی : اللہ نے اس سزا کی وجوہات بھی بیان فرمائی ہیں۔ انھم کانوا قبل ذلک مترفین یہ پہلی وجہ ہے کہ یہ لوگ اس سے پہلے یعنی دنیا کی زندگی میں آسودہ حال تھے ، اور اسی بنا پر یہ عیش و عشرت میں پڑے ہوئے تھے ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان نہیں لاتے تھے اور وقوع قیامت اور جزائے عمل کا انکار کرتے تھے۔ عالم طور پر دنیا میں یہی آسودہ حالی بےدینی کا باعث بنتی رہی ہے اور ایسے لوگ انبیاء (علیہم السلام) کا نہ صرف انکار کرتے رہے ہیں بلکہ ان کا مقابلہ کرتے آئے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کی تین حالتوں میں سے درمیانی حالت ہی مطلوب ہے ، اور دینی لحاظ سے یہی حالت بہتر ہے۔ فرمایا بعض لوگ رفاہیت بالغہ یعنی حد سے زیادہ آسودہ حالی کا شکار ہو کر تعیش (Luxury) میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کاملہ کو بھول جاتے ہیں پرانے زمانے کے قیصروکسریٰ اور موجود دور کے امراء و سلاطین اور صاحب اقتدار وزیر اور مشیر اسی بیماری کی وجہ سے ناکام ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص عیش و عشرت میں پڑجاتا ہے تو پھر اس کے لئے ہر جائز وناجائز ذرائع استعمال کرتا ہے۔ وہ اپنے کارندوں سے جانوروں کی طرح کام لیتا ہے اور معاوضہ کم دیتا ہے حتیٰ کہ ان بیماروں کو آخرت کے متعلق سوچنے کا موقع بھی نہیں ملتا چہ جائیکہ ، وہ اس کے لئے کچھ تیاری کریں۔ تعیش کے طور پر بہترین مکان ، بہترین سواری ، بہترین کھانا اور بہترین کپڑا تمدن کو بگاڑنے والی چیزیں ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے ان عباد اللہ لیسو بالمتنعمین یعنی اللہ کے بندے تعیش پسند نہیں ہوتے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ رفاہیت بالغہ اور تتمشف دونوں حالتیں غلط ہیں۔ البتہ بہترین حالت تیسری ہے جس کے متعلق نبی (علیہ السلام) نے فرمایا خیر الامور اوسطھا یعنی بہترین امور درمیانی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پرتکلف مکان کی بجائے ایک معمولی مکان میں بھی گزرا اوقات ہوسکتی ہے۔ عام سواری ، معمولی لباس اور عام کھانا بھی انسان کے لئے کافی ہوتا ہے۔ بلاوجہ تکلفات میں پڑنا درست نہیں۔ خود حضور ﷺ کبھی تکلف نہیں فرماتے تھے ، جیسا لباس مل گیا پہن لیا۔ آپ کے پاس ایک نہایت قیمتی جوڑا بھی تھا جس پر ستائیس اونٹ خرچ آتا تھا ، اس کو بھی آپ نے بعض مواقع پر استعمال کیا ہے۔ تاہم عام حالات میں آپ کا لباس معمولی قسم کا ہوتا تھا۔ خوراک کا بھی یہی حال تھا۔ آ پنے کبھی بہترین خوراک کی خواہش نہیں کی بلکہ جیسا مل گیا کھالیا۔ خلفائے راشدین ؓ بھی درمیانی حالت کا مجسم نمونہ تھے اور انہوں نے یہی چیز رائج کی۔ تو یہ مترف لوگ اکثر دین کے مخالف ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف ابتداء میں دین کو قبول کرنے والے عموماً غریب غرباء لوگ ہی ہوتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے بدالا سلام غریبا وسیعود کما بدا ، اسلام غریب لوگوں سے شروع ہوا ، اور آخر میں بھی یہ غرباء میں ہی سمٹ کر آجائے گا۔ حضرت وحیہ کلبی ؓ جب حضور ﷺ کا نامہ مبارک لے کر روم گئے ، تو وہاں کے بادشاہ ہر قل نے ابو سفیان ؓ سے پوچھا جو اس وقت ایمان نہیں لائے تھے۔ کہ اس نبی کے پیروکار کیسے ہیں یعنی بڑے لوگ ہیں یا غریب طبقہ ، تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ ان میں سے اکثر کمزور لوگ ہیں۔ اس پر ہر قل نے کہا وھم اتباع الرسل یعنی انبیاء کے پیروکار اکثر کمزور لوگ ہی ہوتے ہیں۔ بڑے لوگ اس وقت ایمان قبول کرتے ہیں۔ جب بالکل مجبور ہوجاتے ہیں یا پھر مقابلے میں ہار جاتے ہیں۔ (2) گناہ پر : اللہ نے اصحاب شمال کی جہنم رسیدگی کی دوسری وجہ یہ بیان کی ہے وکانوا یصرون علی الحنث العظیم کہ وہ بڑے گناہ پر اصرار کرتے تھے۔ حنث کا معنی گناہ ہوتا ہے ، اور حانث اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی قسم توڑ کر گنہگار بن جاتا ہے۔ تاہم اس مقام پر حنث العظیم سے مراد شرک اور کفر ہیں۔ جس پر یہ لوگ دنیا میں اصرار کرتے رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ای ذنب اعظم یعنی سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ، تو حضور ﷺ نے فرمایا ، بڑا گناہ یہ ہے ان تجعل للہ ندا وھو خلقک کہ تو اللہ کا شریک ٹھہرائے۔ حالانکہ اسی نے تجھے پیدا کیا ہے۔ سورة لقمان میں ہے ان الشرک………عظیم (آیت 130) اور سورة بقرہ میں اللہ کا ارشاد ہے ، والکفرون ھم الظلمون (آیت 254) گویا شرک اور کفر ہی سب سے بڑے ظلم یعنی گناہ ہیں ، اور حنث عظیم سے یہی مراد ہے۔ اصحاب شمال انہی پر اصرار کرتے تھے۔ مسلم شریف کے مقدمہ میں امام مسلم (رح) نے لکھا ہے کہ ان کے استاد نے اپنے استاد حضرت جریر محدث (رح) سے ایک راوی حارث بن حصیرۃ کے متعلق پوچھا کہ وہ کیسا راوی ہے تو انہوں نے فرمایا ھو شیخ طویل السکوت یصر علی امر عظیم وہ ایک شیخ ہے جو اکثر خاموش رہتا ہے مگر امر عظیم پر اصرار کرتا ہے اور امر عظیم سے مراد یہ ہے کہ وہ رافضی تھا ، اور رافضیوں میں رجعت کا یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ قرب قیامت میں مسیح (علیہ السلام) کی بجائے حضرت علی ؓ دنیا میں دوبارہ آئیں گے ، وہ عدل و انصاف قائم کریں گے۔ نیز حضرت ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کی قبول کو اکھاڑ کر ان کی نعشوں کو نکالیں گے اور سولی پر لٹکائیں گے۔ وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بھی انتقام لیں گے کیونکہ رافضیوں کے زعم کے مطابق حضرت صدیقہ ؓ حضرت فاطمہ ؓ سے نفرت کرتی تھی ، العیاذ باللہ۔ تو امر عظیم سے مراد یہ فاسد عقیدہ ہے ۔ غرضیکہ حضرت جریر (رح) نے فرمایا کہ میں اس راوی کو جانتا ہوں۔ وہ امر عظیم پر اصرار کرنے والا ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اصحاب شمال اس لئے سزا کے مستحق ٹھہرے کہ وہ حنث عظیم پر مصر تھے۔ (3) بعث بعدالموت کا انکار : اللہ نے تیسری وجہ یہ بیان فرمائی ہے وکانوا یقولون اور یہ لوگ یو کہا کرتے تھے ائذا متنا وکنا ترابا وعظاماء انا لمبعوثون ، کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل جائیں گے ، اور ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ او ابائونا الاولون یا ہمارے اگلے آبائو اجداد بھی دوبارہ جی اٹھیں گے۔ حالانکہ آج تک تو ہم نے کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمای قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں ان الاولین والا خرین بیشک اگلے بھی اور پچھلے بھی لمجموعون البتہ سب کے سب اکٹھے کیے جائیں گے الیٰ میقات یوم معلوم ایک مقررہ دن کے وعدے پر ، اور یہ وہی قیاتم کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ سب کو زندہ کرکے اپنے سامنے کھڑا کرلے گا۔ پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی اور جزا وسزا کے فیصلے ہوں گے۔ مگر اصحاب شمال اس کا انکار کرتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ انہیں عذاب میں مبتلا ہونا پڑا۔ اصحابشمال کے لئے سزا : آگے اللہ نے ان لوگوں کو مزید تفصیلات بیان فرمائی ہیں کہ جب قیامت کا مقررہ دن آجائے گا۔ ثم انکم ایھا الضالون المکذبون تو پھر تم اے بہکے ہوئے لوگوں جو تکذیب کرتے ہو۔ ایمان ، توحید ، رسالت اور قیامت کو جھٹلاتے ہو ، یاد رکھو ! جہنم میں تمہیں یہ سزا دی جائیگی لا کلون من شجر من زقوم کہ تم ھوہر کے درخت سے کھانے والے ہوگے۔ جب تمہیں بھوک ستائے گی تو کھانے کے لئے تھوہر کا پھل دیا جائے گا۔ جو نہایت ہی کڑوا اور تکلیف دہ ہوگا۔ اس درخت کا ذکر قرآن میں کئی مقامات پر آیا ہے۔ مثلاً : سورة الدخان میں فرمایا ان شجرۃ الزقوم طعام الاثیم گنہگاروں کا کھانا تھوہر کا درخت ہوگا جو حلق میں پھنس کر رہ جائے گا۔ فرمایا یہ لوگ فمالون منھا البطون اسی تھوہر سے پیٹوں کو بھرنے والے ہوں گے ۔ بھوک کو مٹانے کے لئے تھوہر کا درخت ملے گا ؟ اور پھر کب پیاس ستائے گی فشار بون علیہ من الحمیم تو کھولتا ہوا پانی پینے والے ہوں گے فشاربون شرب الھیم پس وہ تون سے ہوئے اونٹ کی طرح پینے والے ہوں گے۔ گرم ممالک میں جہاں نقل وحمل اونٹ پر موقوف ہے۔ وہاں پانی کی کمی کی وجہ سے اونٹوں کو عموماً پانچویں دن پانی پر لے جایا جاتا ہے۔ اور وہ پانی پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اصحاب شمال کے متعلق بھی فرمایا کہ سخت پیاس کی وجہ سے وہ پیاسے اونٹوں کی طرح پانی پئیں گے۔ بعض فرماتے ہیں۔ کہ انسانوں میں استسقا جیسی بیماری اونٹوں میں پائی جاتی ہے۔ اس بیماری کے وران انسان یا جانور کو سخت پیاس لگتی ہے مگر وہ کتنا بھی پانی پی جائے اس کی پیاس دور نہیں ہوتی۔ بلکہ ہر بار پانی پینے سے پیاس میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ اونٹوں میں یہ تونس کی بیماری کہلاتی ہے تو فرمایا جہنمی لوگ پانی پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گے جیسے تونس کی بیماری والے اونٹ پانی پیتے ہیں۔ مگر یہ کھولتا ہوا پانی اتنا بدمزہ اور تکلیف دہ ہوگا کہ اس کا ایک گھونٹ آنتوں کو کاٹ کر باہر پھینک دے گا۔ فرمایا ھذا نزلھم یوم الدین انصاف کے دن ایسے لوگوں کی یہی مہمان نوازی ہوگی۔ اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے تحکمانہ طور پر مہمان نوازی کا نام دیا ہے عربی ادب میں تکلیف دہ چیز کو مجازی طور پر مہمان نوازی سے تعبیر کیا جاتا ہے عرت لوگ کہتے ہیں ؎ وکنا اذا الجبار بالجیش ضلغتا جعلنا القنا والمرھفات لہ نزلہ جب کوئی جبار آدمی عظیم لشکر لے کر ہمارا مہمان بنتا ہے یعنی ہم پر چڑھائی کرتا ہے ، تو ہم اس کی مہمان نوازی نیزوں اور تیز تلواروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اسی محاورے کے مطابق اللہ نے گنہگاروں کی سزا کو مہمان نوازی کے ساتھ تعبیر کیا ہے فرمایا ان کی مہمان نوازی ان سزائوں کے ساتھ کی جائے گی۔
Top