Tafseer-e-Baghwi - Al-Waaqia : 41
وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ
وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ : اور بائیں ہاتھ والے مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ : کیا ہیں، بائیں ہاتھ والے
اور بہت سے پچھلوں میں سے
ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین کی تفسیر 40 ۔” وثلۃ من الآخرین “ اس امت کے مومنین میں سے۔ یہ عطاء اور مقاتل رحمہم اللہ کا قول ہے۔ عروۃ بن رویم سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر ” ثلۃ من الاولین وقلیل من الآخرین “ نازل کی تو حضرت عمر ؓ روپڑے اور کہا اے اللہ کے نبی ! ہم اللہ کے رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اس کی تصدیق کی اور ہم میں سے کون نجات پائے گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” ثلۃ من الاولین وثلۃ من الآخرین “ تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو بلایا اور فرمایا تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل کیا ہے جو تونے کہا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہم اپنے رب سے راضی ہوئے اور ہم نے اپنے نبی کریم ﷺ کی تصدیق کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) سے ہم تک ایک ” ثلۃ “ ہے اور مجھ سے قیامت تک ایک ” ثلۃ “ ہے اور اس کو مکمل نہیں کریں گے مگر دو سیاہ لوگ اونٹوں کے چرانے والوں میں سے ان میں جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم پر رسول اللہ ﷺ ایک دن نکلے تو فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں تو ایک نبی گزرے اور ان کے ساتھ ایک آدمی تھا اور ایک نبی گزرے اور ان کے ساتھ دو آدمی تھے اور ایک نبی گزرے ان کے ساتھ ایک جماعت تھی اور ایک نبی گزرے ان کے ساتھ کوئی نہ تھا اور میں نے ایک بہت بڑی جماعت دیکھی جس نے افق کو بند کردیا تو میں نے امید کی کہ یہ میری امت ہو تو کہا گیا یہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی کے قوم کے ساتھ ہیں پھر مجھے کہا گیا اب دیکھیں تو میں نے دیکھا ایک بہت بڑی جماعت ہے جس نے افق کو بند کردیا ہے تو مجھے کہا گیا آپ یہ یہ دیکھیں تو میں نے ایک بہت بڑی جماعت دیکھی جس نے افق کو بند کردیا تو کہا گیا یہ آپ (علیہ السلام) کو بلند کردیا تو کہا گیا یہ آپ (علیہ السلام) کی امت ہے اور ان کے ساتھ سترہزار ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر لوگ متفرق ہوگئے اور ان کو بیان نہیں کیا گیا پھر نبی کریم ﷺ کے اصحاب نے ایک دن یاد کیا کہنے لگے ہم شرک میں پیدا ہوئے لیکن ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لے آئے لیکن یہ ہماری اولاد نبی کریم ﷺ کو یہ بات پہنچی تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو بدفال نہیں نکالتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرتے اور داغ لگاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں تو عکاشہ بن محض کھڑے ہوئے اور فرمایا اور کہا کیا میں ان میں سے ہوں گا یارسول اللہ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں تو دوسرے شخص کھڑے ہوئے اور کہا گیا میں ان میں سے ہوں گا ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تحقیق آپ سے اس بارے میں عکاشہ ؓ سبقت کرگئے ہیں اور اس کو عبداللہ بن مسعود ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آج کے دن مجھ پر انبیاء (علیہم السلام) پیش کیے گئے اپنے متبعین کے ساتھ حتیٰ کہ مجھ پر موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی بڑی جماعت لے کر آئے جب میں نے ان کو دیکھا تو انہوں نے مجھے تعجب میں ڈال دیا تو میں نے پوچھا اے میرے رب یہ لوگ ؟ کہا گیا یہ آپ (علیہ السلام) کے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے لوگ ہیں تو میں نے کہا اے میرے رب ! پس میری امت کہاں ہے ؟ کہا گیا آپ (علیہ السلام) اپنے دائیں جانب دیکھیں۔ پس اچانک مکہ کے ٹیلے لوگوں کی وجہ سے بند کردیئے گئے تھے۔ کہا گیا یہ آپ (علیہ السلام) کی امت ہے کیا آپ راضی ہیں، میں نے کہا میرے رب میں راضی ہوں، اے میرے رب ! میں راضی ہوں۔ کہا گیا اپنے بائیں جانب دیکھیں۔ پس اچانک افق لوگوں کی وجہ سے بند کردیا گیا۔ یہ آپ (علیہ السلام) کی امت ہے کیا آپ (علیہ السلام) راضی ہیں ؟ میں نے کہا اے میرے رب ! میں راضی ہوں تو کہا گیا ان لوگوں کے ساتھ ستر ہزار جو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے تو اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اگر تم طاقت رکھو تو ان ستر ہزار میں سے ہوجائو اور اگر تم عاجز ہوجائو اور کوتاہی کر بیٹھو تو ٹیلوں والوں میں سے ہوجائو اور اگر تم عاجز ہوجائو افق والوں میں سے ہوجائو کیونکہ تحقیق میں نے وہاں لوگوں کو دیکھا ہے کہ بہت بڑی تعداد میں جمع تھے۔ حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم راضی ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو ؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کیا تم راضی ہو کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہو، ہم نے کہا جی ہاں۔ فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، میں جیسے سفید بال سیاہ بیل کی کھال میں یا سیاہ بال سرخ بیل کی کھال میں اور ایک جماعت اس جانب گئی ہے کہ یہ دونوں ” ثلۃ “ اس امت میں سے ہیں اور یہ ابو العالیہ ، مجاہد اور عطاء بن ابی رباح اور ضحاک رحمہم اللہ کا قول ہے۔ ان حضرات نے کہا ” ثلۃ من الاولین “ اس امت کے سابقین میں سے۔ ” وثلۃ من الآخرین “ اس امت سے آخر زمانہ میں۔ سعید بن جبیر (رح) نے ابن عباس ؓ سے اسی آیت کے بارے میں نقل کیا ہے۔ ” ثلۃ من الاولین وثلۃ من الآخرین “ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ دونوں میری امت میں سے ہیں۔
Top