Tafseer-e-Haqqani - Al-Waaqia : 41
وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ
وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ : اور بائیں ہاتھ والے مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ : کیا ہیں، بائیں ہاتھ والے
اور بائیں طرف والے کیا ہی بری گت ہے بائیں طرف والوں کی
ترکیب : السموم حرالناروقیل الریح الحارۃ جداوالحمیم الماء الحار الشدید الحرارۃ یحموم یفعول من الاحم او الحمیم وھوالاسود یقال اسود یحموم صفۃ لظلٍ اوحال وکذا لاباردولاکریم الاستفہام للانکار اذا والعامل فیہ مایدل علیہ مبعوثون لان مابعد الاستفہام لایعمل فیماقبلہ وآباؤنا معطوف علی الضمیر فی لمبعوثون لوقوع الفصل بینھما بالھمزۃ والمیقات ماوقت بہ الشیء ای حددمنہ مواقیت الاحرام والاضافۃ بمعنٰی من والمعنی انھم یحشرون الی ماوقتت بہ الدنیا من یوم الحساب۔ من شجر من زائدۃ وقیل لابتداء الغایۃ من زقوم من بیانیۃ منہا الضمیر تعود الی شجر الزقوم لکون الشجراسم جنس واسم الجنس یذکر و یؤنث شرب الہیم شرب قراء الجمہور بضم الشین وفتحھا وسکرھا قال المبردبا لفتح مصدرو بالکسر والضم اسم لہ۔ والیہم جمع اہیم والانثی ھیماء وقیل جمع ھیمان للذکر وھیما للانثی کعطشٰی اوعطشان وھی ابل عطاش لاتردی لداء وقیل الرمال علیٰ انہ جمع ھیام بالفتح وہوالرمل الذی لایتماسک جمع اولاعلیٰ وزن ھیم کسحب ثم خفف اے بدل ضمۃ الھاء کسرالبقاء الیاء کمافی بیض جمع ابیض۔ والتقدیر شبرمامثل شرب الھیم وکل من المعطوف علیہ اخص من الاخرمن وجہ فلا اتحاد۔ تفسیر … اصحاب الشمال کا حال : اب تیسرے گروہ اصحاب الشمال کا ذکر کرتا ہے کہ اصحاب الشمال ما اصحاب الشمال کہ بائیں والے کیا ہی برے ہیں۔ پھر آگے ان کی بری حالت جو ان کے اعمالِ بد کا مظہر ہے بیان فرماتا ہے فی سموم وحمیم کہ گرم ہوا یا آگ کی لپٹ اور گرم کھولتے پانی میں اور سیاہ دھوئیں کی چھائوں میں ہوں گے اور یہ سایہ گرم دھوئیں کا سایہ ایسا ہوگا کہ نہ جس میں کچھ خنکی ہوگی جیسا کہ اور چیزوں کے سایہ میں ہوا کرتی ہے اور نہ کچھ آرام و عافیت ہوگا اور نہ کوئی عزت ہوگی۔ ابن حریر (رح) کہتے ہیں کہ عرب اس لفظ کریم کو اور الفاظ کے پیچھے محض تبعاً ذکر کردیا کرتے ہیں جیسا کہ کہتے ہیں ھذا الطعام لیس بسمین ولاکریم۔ معاذ اللہ سایہ بھی ملا تو کیسا اور جگہ بھی ملی تو کیسی ؟ اس کے بعد ان کے اس ہیبت ناک جگہ اور مصیبت کدہ میں داخل ہونے کا سبب بیان فرماتا ہے فقال انہم کانواقبل ذلک مترفین کہ وہ پہلے یعنی دنیا میں بڑے عیش و آرام اور ترفہ میں تھے۔ فراغ دستی اور ترفہ اگر خدا پرستی اور نیکوکاری سے مانع نہ آئے تو کوئی بری چیز نہیں اس کی نعمت ہے مگر اس میں خرابی ہے تو یہی کہ یہ نفس پروری اور غفلت اور شہوانی اور غضبانی کاموں کی طرف کھینچ لے جاتی ہے ظلم اور غرور دین اور بزرگان دین سے مقابل کردیتی ہے اور دنیا میں رہنے اور یہاں کے اسباب تجمل پیدا کرنے پر آمادہ کرتی ہے جس کی سزا جہنم ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے وکانوایصرون علی الحنث العظیم اور بڑے گناہ پر اڑی کیا کرتے تھے اسی دنیا کے مال و جاہ کے نشے میں۔ غریب آدمی کو جب کسی برے کام پر ملامت کی جاتی ہے تو بیشتر وہ نادم ہوجاتا ہے اور اڑتا نہیں مگر پیٹ بھرے دولت مند کب مانتے ہیں بلکہ اس پر اصرار کرتے ہیں۔ بڑے گناہ سے کیا مراد ہے ؟ واحدی کہتے ہیں شرک اور یہی ضحاک وحسن و ابن زید کا قول ہے مگر قوی یہی ہے کہ عموماً ہر ایک بڑا گناہ مراد ہے خواہ شرک ہو خواہ انکار آخرت و نبوت خواہ زناوقتل وغیرہ اور اس پر اصرار کرنے کے معنی ہیں کہ اس سے نادم نہ ہو توبہ نہ کرے۔ وکانوایقولون اذامتناوکنا ترابا وعظامًاء انالمبعوثون اوآبائونا الاولون اور منجملہ ان کے گناہ عظیم کے ایک یہ بات بھی تھی کہ وہ مر کر باردگر حشر میں زندہ ہونے کا انکار کرتے تھے اور تعجب کر کے کہتے تھے کہ بھلا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیوں کا چورا ہوگئے تو پھر ہم اور ہمارے باپ دادا اگلے زمانے کے جن کی قبروں اور ہڈیوں کا نشان بھی باقی نہیں رہا باردگر زندہ ہو کر اٹھیں گے۔ یہ بات ان کے نزدیک بڑی تعجب انگیز اور ان کے عقول ناقصہ کے احاطہ سے باہر تھی اور اصل سبب اس تعجب و انکار کا وہی کم بخت حبِّ دنیا اور اس کا ترفہ تھا جس نے ان کے انوار فطریہ اور عقول صافیہ کو سیاہ کر کے ایسی باتوں کے سمجھنے سے قاصر کردیا تھا اور ان کی محبت دنیا اس خطرے کو بھی ان کے دل میں جگہ نہ دیتی تھی کہ آخر ایک روز مرنا ہے اور مر کر زندہ ہونا اور خدا کے سامنے جانا ہے۔ ان کے جہنم میں جانے کی یہی تین باتیں سبب ہوئیں جو تمام گناہوں اور ہر قسم کی اصل الاصول ہیں۔ اعاذنا اللہ منھا۔ اس انکار کے جواب میں فرماتا ہے، قل ان الاولین والاخرین لجموعون الی میقات یوم معلوم کہ اے محمد ﷺ ان منکروں سے کہہ دیجئے کہ اگلے اور پچھلے سب لوگ زندہ کر کے ایک روز جمع کئے جائیں گے۔ پھر اس روز ایہا الضالون المکذبون لآکلون من شجر من زقوم فما لِؤُنَ منہا البطون۔ اے گمراہو جھٹلانے والو ! ان نعمتوں کی جگہ تم تھوہر کا درخت کھاؤ گے اور یہ نہیں کہ ذرا چکھ لو بلکہ اس سے پیٹ بھرو گے۔ ہرچند وہ جہنم کا پیڑ جو دنیا کے تھوہر سے مشابہ ہے نہایت بدمزہ اور تلخ اور گلا گھونٹنے والا انتڑیوں کا زخمی کرنے والا ہے مگر بھوک کی تکلیف اس سے بھی زیادہ تم کو معلوم ہوگی اس سبب سے اس سے پیٹ بھرنا غنیمت جانو گے۔ پھر اس کے کھانے کے بعد پیٹ میں ایک سخت گرمی اور بےانتہا پیاس معلوم ہوگی۔ سرد پانی کی تلاش کرو گے۔ سرد پانی وہاں کہاں ناچار جہنم میں جو کھولتا ہوا پانی ہے فشاربون علیہ من الحمیم اسی کو پیو گے اور کس طرح فشاربون شرب الہیم اس طرح سے اس پر گرو گے کہ جس طرح کئی دن کے پیاسے اونٹ خشک بیابانوں میں جو پانی دیکھ لیتے ہیں تو اس کی طرف بےخود ہو کر دوڑتے ہیں اور اس پانی پر گرتے ہیں اس طرح یہ لوگ اس پر بھی گریں گے۔ اس پانی کے پینے سے انتڑیاں کٹ کٹ کر دستوں میں نکلیں گی ہر روز یہی معاملہ رہے گا۔ ہائے یہ کیسی بیماری اور کیسی مصیبت ہوگی (اللہ محفوظ رکھے) یہ ان کی ضیافت ہوگی قیامت کے دن جس کی وہ نعمتیں کھا کھا کر منکر ہو رہے ہیں۔
Top