Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Waaqia : 41
وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ
وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ : اور بائیں ہاتھ والے مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ : کیا ہیں، بائیں ہاتھ والے
اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں
41۔ 56۔ مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلا دیتی ہے۔ یحموم کے معنی دھواں زقوم وہ کانٹے دار درخت دوزخ میں ہوا جو بھوک کے وقت دزخیوں کو کھلایاجائے گا۔ ترمذی 1 ؎ نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تھوڑا سا زقوم بھی زمین پر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام اہل دنیا کی زندگی تلخ ہوجائے۔ ترمذی اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ معتبر سند سے بیہقی مسند 2 ؎ امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور اب دردا سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب زقوم اہل دوزخ کو کھلایا جائے گا اور اس کے کانٹے ان کے حلق میں پھنسیں گے تو ایسا گرم پانی ان کو پلایا جائے گا جس سے ان کی انتڑیاں کٹ کر نکل پڑیں گی۔ سورة المرسلات میں آئے گا کہ حساب سے فارغ ہونے تک ایسے لوگوں پر دوزخ کی آگ کا دھواں سایہ کی طرح چھا رہے گا جس میں بڑی بڑی چنگاریاں آگ کی ان لوگوں پر جھڑتی رہیں گی۔ اسی کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اس دھویں کا سایہ میں نہ تو کچھ ٹھنڈک ہے نہ وہ سایہ کچھ ان کی عزت بڑھانے کے لئے ہوگا بلکہ وہ تو ان پر آگ کی چنگاریاں برسانے کا گویا ایک بادل ہوگا۔ ان آیتوں میں ایسے لوگوں کے عذاب میں پکڑے جانے کا سبب بھی بتایا کہ یہ لوگ اپنی خوشحالی میں ایسے بدمست ہوگئے تھے کہ اللہ کی عبادت میں بتوں کو شریک کرتے تھے اور دنیا کی خوشحالی کے نشہ میں عقبیٰ کے منکر تھے۔ حالانکہ اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ اس طر کے سب اگلے پچھلوں کو جمع کرکے ان کو زقوم اور کھولتا پانی اس طرح کھلایا پلایا جایا کرے گا جس طرح اصرار سے مہمان کو کھانا پانی کھلایا پلایا جاتا ہے ھیم ان اونٹوں کو کہتے ہیں جن کو تونس ہوجاتی ہے اور کتنا ہی پانی وہ پی جائیں لیکن ان کی پیاس نہیں بجھتی۔ نزل اس کھانے کو کہتے ہیں جو مہمان کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم کی انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا ‘ دوزخ کا تفصیلی حال جو کچھ میں نے دیکھا ہے وہ تم لوگوں کو معلوم ہوجائے تو تمہاری ہنسی کم ہوجائے اور ہر وقت تم روتے رہو۔ اس سے معلوم ہا کہ دنیا کا انتظام قائم رہنے کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق آنحضرت ﷺ نے دوزخ کا جو کچھ حال بیان فرمایا ہے وہ مختصر ہے تفصیلی بیان دوزخ کا اس سے بہت زیادہ ہے۔ (1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی صفۃ شراب اھل النار ص 95 ج 2۔ ) (2 ؎ الرتغیب الترہیب فصل و شراب اھل النار ص 894 ج 4 ایضاً فی فصل طعام اھل النار ص 899 ج 3 و جامع ترمذی باب ماجاء فی طعام اھل النار ص 95 و 96 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم باب الامر بتحسین الصلوٰۃ واتمام مھا الخ ص 170 ج 1۔ )
Top