Tadabbur-e-Quran - Al-Waaqia : 41
وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ
وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ : اور بائیں ہاتھ والے مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ : کیا ہیں، بائیں ہاتھ والے
اور بائیں والے تو کیا ہی برا حال ہوگا بائیں والوں کا !
(واصحب الشمال ما اصحب الشمال فی سموم و حمیم وظل من یحموم لا باردولاکریم (41، 44)۔ (اصحب الشمال کا حشر)۔ یہ اصحب الشمال یعنی ان لوگوں کا حشر بیان ہو رہا ہے جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے، فرمایا کہ وہ لوئوں اور شعلوں کی لپٹ اور گرم پانی کے بیچ میں ہوں گے۔ جب گرمی کی ایذا سے گھبرا کر وہ پانی کی طرف بھاگیں گے تو انہیں کھولتا پانی پینے کو ملے گا۔ اسی بھاگ دوڑ میں ان کی زندگی گزرے گی۔ یہی مضمون (یطوفون بینھا و بین میم ان) (الرحمن : 55، 44) کے الفاظ سے بھی بیان ہوا ہے۔ (وظل من یحموم) یعنی ان کو کوئی سایہ نصیب نہیں ہوگا۔ صرف سیاہ دھوئیں کا سایہ وہاں انکے لیے ہوگا۔ اور یہ ان تمام خوبیوں سے محروم ہوگا جو سایہ میں ہوتی ہیں۔ سایہ میں اصل چیز ٹھنڈک ہوتی ہے لیکن اس دھوئیں کے سایہ میں اذیتیں تو وہ ساری ہوں گی جو دھوئیں کے اندر ہوتی ہیں لیکن کوئی ٹھنڈک نہیں ہوگی۔ اسی طرح بعض دوسرے فوائد کا امکان بھی اس میں ہوسکتا ہے، مثلاً شعلوں ہی کی لپیٹ سے ذرا اس کے سایہ میں امان نصیب ہوجائے لیکن یہ چیز بھی اس سے حاصل نہیں ہوگی۔ کریم کے معنی فیض بخش کے ہیں یعنی اس سایہ میں نہ ٹھنڈک ہوگی نہ کوئی اور فائدہ سورة مرسلات میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے (لا ظلیل ولا یغنی من اللھب (المرسلت 77، 31) (نہ سایہ دار اور نہ شعلوں سے بچانے والا)
Top