Jawahir-ul-Quran - Al-Waaqia : 41
وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ
وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ : اور بائیں ہاتھ والے مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ : کیا ہیں، بائیں ہاتھ والے
اور بائیں والے15 کیسے بائیں والے
15:۔ ” واصحب الشمال “ یہ دوسری جماعت کے احوال کا بیان ہے۔ اصحاب الشمال کا کیا پوچھتے ہو ان کا حال نہایت برا اور ناگفتہ بہ ہوگا۔ فی سموم الخ، مبتدا ” ھم “ محذوف ہے اور یہ اصحاب الشمال کے حال بد کا بیان ہے۔ ان کو ٹھنڈی ہوا اور ٹھنڈے پانی کے بجائے نہایت ہی گرم اور زہریلی ہوا اور کھولتا ہوا پانی نصیب ہوگا اور گرمی سے بچنے کے لیے کوئی سایہ نہ ہوگ سوا اس دھواں کے جو جہنم کی آگ سے اٹھے گا۔ اہل دوزخ دوڑ کر اس کے سائے میں پناہ لینے کی کوشش کریں گے۔ ” لا بارد ولا کریم “ مگر وہ سایہ نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ کسی حد تک مفید ہوگا اس سے ان کے عذاب میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوگی۔ السموم الریح الحارۃ التی توثرتاثیر السیم (مفردات راغب ) ۔ حمیم وھو الماء الشدید الھرارۃ (روح ج 27 ص 143) ۔ (یحموم) ای دخان شدیدالسواد۔ (لا بارد) کسائر الظل (ولا کریم) ای لا نافع بوجہ ما (مطیر ج 9 ص 176) ۔
Top