Mafhoom-ul-Quran - Al-Baqara : 276
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ
فَاِنْ : پھر اگر لَّمْ تَفْعَلُوْا : تم نہ چھوڑو گے فَاْذَنُوْا : تو خبردار ہوجاؤ بِحَرْبٍ : جنگ کے لیے مِّنَ : سے اللّٰهِ : اللہ وَرَسُوْلِهٖ : اور اس کا رسول وَاِنْ : اور اگر تُبْتُمْ : تم نے توبہ کرلی فَلَكُمْ : تو تمہارے لیے رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ : تمہارے اصل زر لَا تَظْلِمُوْنَ : نہ تم ظلم کرو وَلَا تُظْلَمُوْنَ : اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے اور (بالخصوص) نماز کی پابندی کی اور زکوٰة دی ان کے لیے ان کا ثواب ہوگا ان کے پروردگار کے نزدیک اور (آخرت میں) ان پر کوئی خطرہ نہیں ہوگا اور نہ وہ مغموم ہونگے۔ (ف 4) (277)
4۔ اوپر کی آیت میں سود خواروں کا قول انما البیع مثل الربوا ان کے کفر پر دلالت کرتا تھا۔ اس کے مقابل میں اس آیت میں آمنو لایا گیا اور وہاں ان کی بدعملی سود کی مذکور تھی جس سے ان لوگوں کا راغب الی الدنیا ہونا بھی مفہوم تھا یہاں ان کی خوش عملی اجمالا عملو الصالحات سے تفصیلا راغب الی اللہ ہونا اقامو الصلوة سے اور بجائے مال سود حاصل کرنے کے اور بالعکس مال کا خرچ کرنا اتوالزکوة سے مذکور ہے اور ظاہر ہے کہ ان مقابلوں کی رعایت سے کلام میں کس قدر حسن و خوبی آگئی۔
Top