Maarif-ul-Quran - Al-Waaqia : 41
وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ
وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ : اور بائیں ہاتھ والے مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ : کیا ہیں، بائیں ہاتھ والے
اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں
ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔ اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا ہوگا اور ہو نہ ہی نفع بخش ہوگا اور بائیں جانب والوں کو ایسے شدید اور سخت عذاب میں اس وجہ سے مبتلا کیا جائے گا کہ یہ لوگ اس سے پہلے بڑے ہی عیش و عشرت میں پڑے ہوئے تھے اللہ کی نعمتوں سے بجائے اللہ کی پہچاننے کے اور زائد خدا سے بغاوت وسرکشی کا طریقہ اختیار کیا ہوا تھا اور بہت سخت نافرمانی پر اصرار کرتے تھے اور شرک جیسی عظیم معصیت کا ارتکاب کرتے تھے اور اسی کے ساتھ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے اور یہ کیا کرتے تھے کہ جب کہ ہم مرجائیں گے اور مر کر ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہماری ہڈیاں بھی ریزہ ریزہ ہوجائیں گی تو کیا ہم پھر دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور کیا اگلے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے، انکے استعجاب اور حیرت وانکارکاجواب دیتے ہوئے آپ کہہ دیجئے یقیناً تم سب اگلے اور پچھلے بلاشبہ جمع کئے جاؤ گے ایک مقرر کردہ وقت پر اور اس وقت تم خود مشاہدہ کرلو گے کہ تمہیں کس طرح دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا گیا اس وقت تمہارا یہ سب تعجب دور ہوجائے گا پھر اے گمراہو ! خدا اور اسکے رسول کی باتیں جھٹلانے والو ! تم کھانے والے ہوگے درخت زقوم جس کے سوا تمہارے واسطے کوئی غذا نہ ہوگی پس اسی سے تم اپنے پیٹوں کو بھرنے والے ہوؤگے پھر اسکے بعد تم اس پر پینے والے ہوؤگے کھولتا ہوا پانی جس کو تم اس طرح پیتے ہوگے جیسا کہ پیاسے اونٹوں کا پینا ہو جو استسقاء کی بیماری میں مبتلا ہوں بد حواسی اور بےقراری کی کیفیت سے تم اس پر گر رہے ہو گے حالانکہ وہ پانی اس قدر کھولتا ہوگا کہ اس سے انتڑیاں بھی کٹ کٹ کردبر کے راستہ سے نکل آئیں گی اے مخاطبو ! سن لویہ ہے ان مکذبین ضآلین کی مہمانی قیامت کے دن جو انکے واسطے مہیا کی جائے گی یہ ہے انجام ان منکرین کا جو خدا اور اس کے رسول کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں حشرونشر اور قیامت کا انکار کرتے ہیں حالانکہ کسی بھی صاحب عقل کے لیے اس امر کی گنجائش نہیں کہ وہ حشر اور بعث بعد الموت کا انکار کرے، ہم ہی نے تو تم کو پیدا کیا ہے اور ظاہر ہے کہ دنیا میں کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا تو پھر تم کیوں نہیں یقین کرتے اور کیوں نہیں اللہ کی بات مانتے اگر بالفرض تم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے اور اس پر ایمان نہیں لاتے تو پھر بتاؤ یہ جو منی تم عورتوں کے رحم میں ٹپکاتے ہو پھر اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے تو کیا تم اس کو بناتے ہوباہم اسکے بنانے والے ہیں ایک قطرۂ آب کو رحم مادر میں مختلف احوال میں متغیر کرنا کہ نطفہ سے علقہ (دم بستہ) علقہ سے مضغہ (گوشت کا ٹکڑا) پھر اسکی ساخت اور ڈھال یہاں تک کہ ہڈیوں اور جوڑوں کو مرتب کرنا پھر اس میں حیات ڈالنایہ سب کچھ ہماری ہی قدرت ہے جس کا ہر مرحلہ اور ہر صورت اپنی زبان حال سے اقرار کرتی ہے (آیت ) ” فتبارک اللہ احسن الخالقین “۔ تو جس طرح ہم انسانی تخلیق کے ان جملہ مرحلوں کو اپنی قدرت سے پورا کرتے ہیں تو زندگی اور موت کے بھی ہم ہی مالک ہیں ہم نے ہی مقرر کر رکھا ہے تمہارے درمیان موت کو جس کے لیے زمان ومکان سب کچھ طے کیا ہوا ہوتا ہے اور ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں کہ ہم تمہارے بدلہ اور کوئی قوم لے آئیں جو تم جیسی ہو اور تم کو پیدا کریں ایسی صورت میں جو تم نہیں جانتے ہو کہ وہ کیا صورت ہوگی یا کون سی جگہ ہوگی بلاشبہ ہم اس پر قادر ہیں کہ تم کو ہلاک کرکے اور دوسری قوم پیدا کردیں جیسے کہ یہ بات دن رات تمہاری نظروں کے سامنے ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ مرتے ہیں اور دوسرے پیدا ہونے والے پیدا ہوتے ہیں تو یہ بھی ایک نمونہ بعث بعد الموت کا ہے اور بیشک تم جان چکے ہو پہلی مرتبہ پیدا ہونے کو تو جب ایک مرتبہ کی پیدائش تم جانتے ہو اور اس پر تمہارا یقین ومشاہدہ ہے تو پھر تم کو دوبارہ زندہ اور پیدا ہونے میں کیا تردد وتامل ہے تو پھر بھی کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے حالانکہ یہ دلائل ومشاھدات قبول حق اور خدا کی باتوں پر ایمان لانے کے لئے بہت کافی ہیں ان ہزار ہاتاریخی شواہد کو دنیا میں کوئی بھی رد نہیں کرسکتا کہ کئی قومیں قرون اولی میں ہلاک کردی گئیں اور پھر دوسری قوم جو ان ہی جیسی نسل انسانی کی ایک قوم تھی پیدا کردی گئی یہی وہ ارشاد ہے جو دوسری جگہ ارشاد فرمایا (آیت ) ” ان یشایذھبکم ایھا الناس ویات باخرین وکان اللہ علی ذلک قدیرا “۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اچھا پھر بتاؤ یہ جو تم کھیتی کرتے ہو اور زمین میں بیج ڈالتے ہو تو کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم ہیں اس کے اگانے والے ظاہر ہے کہ زمین کی تہوں میں سے اس تخم کو پھاڑکر نکالنا اور پھر ایک گھاس کے تنکے کا نشوونما کرنا یہاں تک کہ وہ پھلے پھولے شاداب ہو اس پر غلہ کے دانے لگیں پھر پکیں پھر ان کو کاٹا جائے یہ سب کچھ اللہ رب العزت ہی کی شان خالقیت ہے جو ہر مرحلہ اور تغیر پر نظر آرہی اگر ہم چاہیں تو اس کھیتی کو سوکھا ہوا گھانس بنادیں جو ریزہ ریزہ ہو خواہ اگتے ہی اسکو گھانس بنادیں یا بڑھنے کے بعد اور قبل اس کے کہ اس پر دانے لگیں اور وہ پکیں پھر تم اس پر حیرت کے ساتھ نادم وشرمندہ ہونے لگو۔ حاشیہ (حسن بصری (رح) سے اور قتادہ (رح) سے لفظ (آیت ) ” فظلتم تفکھون “۔ کی یہی تفسیر منقول ہے ابن عباس ؓ نے غمگین ہونے کے معنی مراد لیے ہیں قتادہ (رح) نے یہ بھی بیان کیا کہ (آیت ) ” تفکھون “۔ کے معنی معذبون ہیں، عکرمہ ؓ نے ملامت سے تفسیر کی ہے ابن جریر (رح) اور سدی (رح) کہتے کہ کہ حسرت کے معنی مراد ہیں کہ اس خرچ اور محنت پر تم حسرت کرنے جو تم نے اس کھیتی پر کیا الغرض لفظ (آیت ) ” تفکھون “۔ کی یہ تفسیر ان ائمہ سے قدر مشترک ایک ہی جامع حقیقت کو بیان کر ہی ہے 12 روح المعانی 26 تفسیر ابن کثیر ج 4) اور شدت غم میں کہتے ہو کہ بیشک ہم تو بڑے ہی خسارہ میں ڈال دئیے گئے بلکہ ہم تو محروم ہی ہوچکے ہیں اور بڑے ہی بدنصیب ہیں اچھا ذرا تم یہ بتاؤ یہ پانی جو کہ تم پیتے ہو کیا تم نے اس پانی کو اتارا ہے بادل سے یا ہم ہیں اتارنے والے یہ کس قدر عظیم انعام ہے اور ہماری قدرت کی کیسی واضح دلیل ہے اگر ہم چاہیں تو اس کو کھارا بنادیں اور ایک گھونٹ بھی تو تم پینے پر قادر نہ رہو پھر آخر کیوں نہیں تم ہمارے شکر گزار ہوئے کہ کس قدر عظیم ذخیرے میٹھے پانی کے تمہارے قبضہ میں دے دیتے جس کا ایک ایک گھونٹ مستحق شکر ہے چناچہ روایات میں ہے کہ آنحضرت ﷺ پانی پی کر یہ کلمات فرماتے الحمد للہ الذی سقانا عذبا فراتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحا اجاجا بذنوبنا (کہ شکر ہے اور ہر تعریف اس پروردگار کی جس نے یہ شیریں پانی پلایا ہے اور اس کو ہمارے گناہوں کی وجہ سے شور اور تلخ نہیں بنایا) پھر ذرا یہ بھی دیکھو اور بتاؤ کہ یہآگ کہ جس کو تم سلگاتے ہو کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم ہیں اسکو پیدا کرنے والے۔ حاشیہ (بعض روایات سے یہ ثابت ہے کہ ان آیات کی تلاوت کے وقت تلاوت کرنے والا ہر جملہ استفہامیہ پر پہنچے تو یہ کہے، بل انت یا رب، نہیں نہیں اے پروردگار مگر تو ہی اس کا خالق ہے۔ یقیناً یہ درخت کہ جس سے آگ سلگتی ہے صرف ہی کی قدرت سے پیدا ہوا۔ ہم نے بنادیا ہے اس درخت کو جب کہ اس کی آگ کو دہکتے ہوئے دیکھا جائے یاد دلانے کا سامان آخرت کی آگ کے لیے کہ اس کو دیکھ کر سمجھ لیا جائے کہ آخرت کی آگ کس طرح دہکتی ہوگی اور اس آگ کی سوزش کیسی اذیت پہنچانے والی ہوگی اور برتنے کا سامان ہے جنگل والوں اور مسافروں کے لئے۔ 2 حاشیہ (المقوین کے ترجمہ میں لفظ جنگل والوں کے ساتھ اور مسافروں کا لفظ کرکے ان اقوال متعددہ کی طرف اشارہ ہے جو اسکی تفسیر میں منقول ہیں حافظ ابن کثیر (رح) اپنی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس ؓ مجاہد (رح) قتادہ (رح) اور ضحاک (رح) نے مقوین کے معنی مسافرین کے بیان کئے ہیں اور ابن جریر ؓ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے دوسرے بعض ائمہ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ یہ لفظ مقوین القی اور القواء سے مشتق ہے جس کے معنی جنگل وبیابان جو آبادی سے دور ہو یہ دونوں تفسیریں معروف ہیں اور اکثر حضرات مفسرین نے عبدالرحمن بن زید بن اسلم ؓ سے مقوین کے معنی محتاج اور فقراء بیان کئے ہیں۔ ابن ابی نجیح (رح) نے معنی مستمعین یعنی کان لگانے اور توجہ سے سننے والے بھی کیا ہے یہ جملہ معانی بلا تکلف اس جگہ جمع بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ آگ جیسی نعمت کا ہر شخص محتاج ہے اور اس کیا پیدا کرنا حق تعالیٰ کی طرف سے ہر ایک کیلئے انعام عظیم ہے خواہ وہ مقیم ہو یا مسافر جنگل وبیابان ہو یا آبادی اور شہر میں وہ محتاج ہو یا غیر محتاج غنی ہو یا تنگدست ہر ایک اس نعمت کا محتاج ہے اور اس سے منتفع ہوتا ہے اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ کا ارشاد مبارک ہو تمام مسلمان تین چیزوں میں برابر کے شریک ہیں آگ سبزہ اور پانی کیونکہ یہ تینوں چیزوں مدار حیات ہیں 12۔ ) کس طرح جنگل میں رہنے والے اور جنگل میں سفر کرنے والے اس درخت کی آگ سے نفع اٹھاتے ہیں کھانا پکانا روشنی حاصل کرنا سردی کی شدت میں اس سے آرام حاصل کرنا لوہے تانبے جیسی چیزوں کو تپا کر سامان زندگی تیار کرنا غرض ایسی ہی ہزار ہا نعمتیں ہیں جو صرف آگ جیسی واحد نعمت سے متعلق ہیں جن کو دنیا میں ہر خاص عام جانتا ہے جو ایک طرف اس کی کمال قدرت کی دلیل ہے تو دوسری طرف انعام عظیم بھی ہے جس پر بندہ کو ہر لمحہ اس کی پاکی اور عظمت کا اقرار اعتراف کرتے رہنا چاہئے۔ سو اے مخاطب تو پاک بیان کر اپنے رب عظیم کے نام کی اور اس کی ہر نعمت کا شکر ادا کر جس نے مخلوق کی حیات اور راحت کے یہ جملہ اسباب پیدا کئے اور اپنی قدرت عظیمہ سے پانی اور آگ جیسی متضاد چیزوں کو پیدا کیا۔
Top