Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Baqara : 62
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ
ثُمَّ : پھر قَسَتْ : سخت ہوگئے قُلُوْبُكُمْ : تمہارے دل مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ : اس کے بعد فَهِيَ : سو وہ کَالْحِجَارَةِ : پتھر جیسے اَوْ : یا اَشَدُّ قَسْوَةً : اس سے زیادہ سخت وَاِنَّ : اور بیشک مِنَ الْحِجَارَةِ : پتھروں سے لَمَا : البتہ يَتَفَجَّرُ : پھوٹ نکلتی ہیں مِنْهُ : اس سے الْاَنْهَارُ : نہریں وَاِنَّ : اور بیشک مِنْهَا : اس سے (بعض) لَمَا : البتہ جو يَشَّقَّقُ : پھٹ جاتے ہیں فَيَخْرُجُ : تو نکلتا ہے مِنْهُ : اس سے الْمَآءُ : پانی وَاِنَّ : اور بیشک مِنْهَا : اس سے لَمَا : البتہ يَهْبِطُ : گرتا ہے مِنْ : سے خَشْيَةِ اللہِ : اللہ کے ڈر وَمَا : اور نہیں اللّٰہُ : اللہ بِغَافِلٍ : بیخبر عَمَّا : سے جو تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور جھکو (نماز میں) جھکنے والوں کے ساتھ۔
آیت 43 وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ” یعنی باجماعت نماز ادا کیا کرو۔ اوّل تو یہود نے رکوع کو اپنے ہاں سے خارج کردیا تھا ‘ ثانیاً باجماعت نماز ان کے ہاں ختم ہوگئی تھی۔ چناچہ انہیں رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ گویا صراحت کی جا رہی ہے کہ نبی آخر الزماں ﷺ پر صرف ایمان لانا ہی نجات کے لیے کافی نہیں ‘ بلکہ تمام اصول میں آپ ﷺ ‘ کی پیروی ضروری ہے۔ نماز بھی آپ ﷺ کے طریقے پر پڑھو جس میں رکوع بھی ہو اور جو باجماعت ہو۔
Top