Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
267
268
269
270
271
272
273
274
275
276
277
278
279
280
281
282
283
284
285
286
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Kashf-ur-Rahman - Al-Baqara : 4
صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ ۧ
صِرَاطَ
: راستہ
الَّذِينَ
: ان لوگوں کا
أَنْعَمْتَ
: تونے انعام کیا
عَلَيْهِمْ
: ان پر
غَيْرِ
: نہ
الْمَغْضُوبِ
: غضب کیا گیا
عَلَيْهِمْ
: ان پر
وَلَا
: اور نہ
الضَّالِّينَ
: جو گمراہ ہوئے
جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے انعام فرمایا، جن پر غصہ نہیں کیا گیا اور جو گمراہ نہیں ہیں۔
صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ
9
غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ ترجمہ : جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے انعام فرمایا جن پر غصہ نہیں کیا گیا اور جو گمراہ نہیں ہیں۔ (
7
) (
1
) امام وکیع، ابوعبید، سعید بن منصور بن حمیر، ابن المنذر، ابن ابی داؤد اور ابن الانباری ان دونوں نے المصاحف میں حضرت عمر بن الخطاب کے طریق سے نقل کیا ہے کہ وہ لفظ آیت ” صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الظالین “ پڑھا کرتے تھے۔ (
2
) امام ابو عبید، عبد بن حمید، ابن الانباری، ابن ابی داؤد نے حضرت عبد اللہ بن الزبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ نماز میں لفظ آیت ” صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ پڑھا کرتے تھے۔ (
3
) ابن الانباری (رح) حضرت حسن (رح) سے روایت کرتے ہیں وہ لفظ آیت ” علیہمی “ ھا اور میم کے کسرہ اور یا پر فتحہ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ (
4
) ابن الانباری (رح) حضرت اعرج (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ” علیھموا “ ھا اور میم کے ضمہ اور واؤ کو ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ (
5
) ابن الانباری (رح) عبد اللہ بن کثیر (رح) سے روایت ہے کہ وہ لفظ آیت ” انعمت علیھموا “ ھا اور میم کے ضمہ اور واؤ کو ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ (
6
) ابن الانباری ابن اسحاق سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ” علیہم “ ھا اور میم کے ضمہ کے ساتھ واؤ کو بغیر ملائے پڑھا۔ (
7
) ابن ابی داؤد ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ عکرمہ اور اسود اس طرح پڑھا کرتے تھے۔ لفظ آیت ” صراط من انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “۔ (
8
) ثعلبی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” انعمت علیہم “ چھٹی آیت ہے۔ (
9
) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” صراط الذین انعمت علیہم “ کے بارے میں یہ نقل کیا ہے (کہ اس سے مراد) وہ راستہ ہے جن پر انعام ہوا فرشتوں میں سے اور نبیوں اور صدیقین اور شہداء اور صالحین میں سے مراد جنہوں نے تیری اطاعت اور تیری عبادت کی۔ (
10
) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” صراط الذین انعمت علیہم “ سے مراد مؤمنین کا راستہ ہے۔ (
11
) ابن جریر نے ابو زید (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” صراط الذین “ سے نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کا راستہ مراد ہے۔ (
12
) امام عبد بن حمید نے حضرت ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” صراط الذین انعمت علیہم “ سے انبیاء مراد ہیں اور لفظ آیت ” غیر المغضوب “ سے یہودی مراد ہیں اور لفظ آیت ” ولا الضالین “ سے نصاری مراد ہیں۔ (
13
) عبد بن حمید نے حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم “ سے یہودی مراد ہیں اور ” ولا الضالین “ سے نصاری مراد ہیں۔ (
14
) عبد ابن حمید نے حضر سعید ابن جبیر سے روایت ہے کہ لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ سے یہود و نصاری مراد ہیں۔ (
15
) امام عبد الرزاق، احمد بن حمید، ابن جریر اور البغوی نے عبد اللہ بن شقیق (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو ایسے آدمی نے خبر دی جس نے نبی کریم ﷺ سے سنا اور آپ وادی قری میں ایک گھوڑے پر سوار تھے اور بنی عین کے ایک آدمی نے آپ سے پوچھا کہ لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم “ سے کون مراد ہیں یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا یہود پھر اس نے پوچھا کہ لفظ آیت ” ضالون “ سے کون مراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا نصاری۔ (
16
) امام وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر نے عبد اللہ بن شقیق (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وادی قری کے رہنے والوں کا محاصرہ کیا ہوا تھا ایک آدمی نے پوچھا یہ وادی قری والے کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم “ یہود ہیں پھر اس نے پوچھا یہ دوسرا گروہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ لوگ لفظ آیت ” الضالون “ یعنی نصاری ہیں۔ (
17
) امام ابن مردویہ نے حضرت عبد اللہ بن شقیق کے طریق سے حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے لفظ آیت ” المغضوب علیہم “ کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا اس سے مراد یہود ہیں پھر میں نے ” الضالین “ کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا اس سے مراد نصاری ہیں۔ (
18
) امام بیہقی شعب الایمان میں عبد اللہ بن شقیق (رح) بلعین کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے چچا کے بیٹے سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ وادی قری میں تشریف فرما تھے میں نے عرض کیا آپ کے پاس یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا لفظ آیت ” المغضوب علیہم “ یعنی یہود اور ” ولا الضالین “ یعنی نصاری ہیں۔ (
19
) سفیان بن عینیہ اپنی تفسیر میں سعید بن منصور نے اسماعیل بن ابی خالد ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا لفظ آیت ” المغضوب علیہم سے مراد یہود اور ” الضالون “ سے مراد نصاری ہیں۔ (
20
) امام احمد، عبد بن حمید، ترمذی، انہوں نے اسے حسن کہا ہے ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت عدی بن حاتم سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لفظ آیت ” المغضوب علیہم “ سے مراد یہود ہیں اور ” ولا الضالین “ سے مراد نصار ہیں۔ (
21
) احمد، ابو داود، ابن حبان، الحاکم، انہوں نے اس کو صحیح کہا ہے اور طبرانی نے حضرت شرید ؓ سے روایت کیا ہے کہ میرے پاس سے رسول اللہ ﷺ گزرے اور میں اس طرح بائیں ہاتھ کو اپنی پیٹھ پیچھے رکھ کر دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر سہارا لگائے ہوئے بیٹھا تھا۔ آپ نے فرمایا کیا تو لفظ آیت ” المغضوب علیہم “ کے بیٹھنے کی طرح بیٹھا ہوا ہے ؟ یعنی یہودیوں کی طرح۔ (
22
) امام ابن جریج نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” المغضوب علیہم “ سے مراد یہود ہیں اور ” ولا الضالین “ سے مراد نصاری ہیں۔ (
23
) ابن جریج، مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ (
24
) ابن ابی حاتم (رح) فرماتے ہیں کہ مفسرین کے درمیان لفظ آیت ” المغضوب علیہم “ کا معنی یہود اور ” ولا الضالین “ کا معنی نصاری لینے میں مفسرین میں کوئی اختلاف کو نہیں جانتا (یعنی ہر مفسر نے ان کا یہی معنی مراد لیا ہے) ۔ ذکر آمین اے اللہ ! قبول فرما۔ (
1
) امام وکیع اور ابن شیبہ نے ابو میسرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے جب رسول اللہ ﷺ کو فاتحہ الکتاب پڑھوائی اور لفظ آیت ” ولا الضالین “ پر پہنچے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا اس کے بعد آپ آمین کہیں۔ تو آپ نے فرمایا آمین۔ (
2
) امام وکیع، ابن ابی شیبہ، احمد، ابو داؤد، ترمذی (انہوں نے اس کو حسن کہا ہے) نسائی، ابن ماجہ، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے وائل بن حجر حضرمی ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ نے لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ کے بعد فرمایا آمین۔ اور اس کے ساتھ آپ آواز کو بلند کرتے تھے۔ (
3
) امام طبرانی اور بیہقی نے اپنی سنن میں وائل بن حجر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز کو سنا جب آپ نے لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ پڑھا تو فرمایا لفظ آیت ” رب اغفرلی آمین۔ اے اللہ ! مجھے بخش دے آمین۔ (
4
) امام طبرانی نے وائل بن حجر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جب آپ فاتحۃ الکتاب سے فارغ ہوئے تو تین مرتبہ فرمایا آمین۔ (
5
) امام ابن ماجی نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو لفظ آیت ” ولا الضالین “ کے بعد آمین کہتے ہوئے سنا۔ (
6
) امام مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب امام لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ کہے تو تم آمین کہو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول کرے گا۔ (
7
) امام مالک، شافعی، ابن ابی شیبہ، احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے تو اس کے سابقہ گناہ سب معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ (
8
) امام ابو یعلی نے اپنی مسند میں اور ابن مردویہ نے جید سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب امام لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ کہے اور اس کے پیچھے مقتدی بھی آمین کہیں تو اس آمین پر آسمان اور زمین والے متوجہ ہوتے ہیں۔ اور جو شخص آمین نہیں کہتا وہ اس آدمی کی مانند ہے جس نے قوم کے ساتھ جہاد کیا اور ان کے حصوں کا قرعہ ڈالا گیا لیکن اس کا حصہ نہ نکلا تو اس نے کہا میرا حصہ کیوں نہیں نکلا تو (ایک کہنے والے نے) کہا کیونکہ تو نے آمین نہیں کہا (اس لئے تمہارا حصہ نہیں نکلا) ۔ (
9
) امام ابو داؤد نے حسن سند کے ساتھ ابو زھیر نمیری (رح) سے روایت کیا ہے کہ اور وہ صحابہ میں سے تھے جب کوئی آدمی دعا کرتا ہے تو اس کو آمین پر ختم کرتا ہے کیونکہ آمین کسی کاغذ پر مہر لگانے کی طرح ہے۔ اور مزید فرمایا کہ میں تم کو اس بارے میں بتاتا ہوں ایک رات ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ باہ نکلے اور ایک آدمی ہمارے پاس آیا جو اللہ تعالیٰ سے مانگنے میں بہت آہ وزاری کر رہا تھا تو نبی اکرم ﷺ اس کی دعا کو سننے کے لئے ٹھہر گئے پھر آپ نے اس سے فرمایا اگر اس نے مہر لگائی تو اس نے واجب کردیا۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے پوچھا کہ کس چیز کے ساتھ مہر لگائے ؟ آپ نے فرمایا آمین کے ساتھ کیونکہ اگر آمین کے ساتھ مہر لگائی تو اس نے واجب کردیا (سوال کے پورا ہونے کو) ۔ (
10
) امام احمد، ابن ماجہ اور بیہقی نے سنن میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم پر یہود نے کسی چیز سے اتنا حسد نہیں کیا جتنا آمین پر حسد کیا۔ (
11
) ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم پر یہود نے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا آمین پر حسد کیا۔ پس آمین کثرت سے کہو۔ (
12
) ابن عدی نے الکامل میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ یہود حسد والی قوم ہے اور انہوں نے تم پر تین چیزوں پر حسد کیا۔ سلام کے پھیلانے پر، صف باندھنے پر اور برابر آمین کہنے پر۔ (
13
) امام طبرانی نے الاوسط میں حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ یہود حسد والی قوم ہے انہوں نے مسلمانوں سے تین افضل چیزوں میں حسد کیا سلام کا جواب دینے میں، صفوف کے باندھنے میں، فرض نماز میں امام کے پیچھے آمین کہنے میں۔ امت محمدیہ ﷺ کی تین خصوصیات (
14
) الحرث بن اسامہ نے اپنی مسند میں حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں اور ابن مردویہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے تین چیزیں دی گئیں۔ نماز کو صفوں میں (کھڑے ہو کر ادا کرنا) دیا گیا۔ اور میں سلام دیا گیا جو جنت والوں کا تحفہ ہے اور میں آمین دیا گیا اس سے پہلے سوائے ہارون (علیہ السلام) کے کسی کو یہ تحفہ نہیں دیا گیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے تھے اور حکیم ترمذی کے الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو تین چیزیں عطا فرمائیں اور ان سے پہلے کسی کو بھی نہیں دی گئیں۔ سلام جو جنت والوں کا تحفہ ہے اور فرشتوں کی طرح صف باندھنا اور آمین کہنا۔ مگر یہ موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی آمین کی سعادت دی گئی تھی۔ (
15
) الطبرانی نے الدعا میں ابن عدی اور ابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آمین رب العالمین کی مہر ہے اس کے مؤمن بندوں کی زبان پر۔ (
16
) امام جو یبر نے اپنی تفسیر میں ضحاک کے واسطے سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آمین کا کیا معنی ہے ؟ آپ نے فرمایا اے میرے رب قبول فرما۔ (
17
) ثعلبی نے کلبی کے طریق سے ابن صالح سے ابن عباس سے اس کی مثل روایت کی ہے۔ وکیع اور ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ہلال بن سیاف اور مجاہد (رح) دونوں حضرات سے روایت کیا ہے کہ آمین اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ (
18
) امام ابن شیبہ نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب امام لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ کہے تو اس کے جواب میں لفظ آیت ” اللہم اغفرلی “ اور آمین کہنا مستحب ہے۔ (
19
) امام ابن ابی شیبہ نے حضرت مجاہد سے روایت کیا ہے کہ جب امام لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ کہے۔ تو اس کے بعد کہو : اللہم انی اسئلک الجنہ واعوذبک من النار ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آپ سے دوزخ سے پناہ مانگتا ہوں۔ (
20
) امام ابن ابی شیبہ ربیع بن خیثم سے روایت کرتے ہیں کہ جب امام لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین “ کہے تو تم جو چاہو دعا سے مدد حاصل کرو۔ (
21
) امام ابن شاہین نے السنہ میں اسماعیل بن مسلم سے روایت کیا ہے کہ ابی بن کعب ؓ کے مصحف میں لفظ آیت ” غیر المغضوب علیہم ولا الضالین آمین بسم اللہ “ تھا پھر اسماعیل فرماتے ہیں کہ جب حضرت حسن ؓ سے آمین کی تفسیر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا مطلب ہے اللہم استجب۔ اے اللہ تو ہماری اس دعا کو قبول فرما۔ (
22
) دیلمی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا پھر فاتحۃ الکتاب کو پڑھا پھر کہا آمین تو آسمان پر کوئی فرشتہ مقرب باقی نہیں رہتا جو اس شخص کے لئے استغفار نہ کرتاہو۔ الحمدللہ سورة فاتحہ مکمل ہوئی
Top