Mutaliya-e-Quran - Al-Israa : 84
وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا
وَقُلْ : اور کہیں رَّبِّ : اے میرے رب اَدْخِلْنِيْ : مجھے داخل کر مُدْخَلَ : داخل کرنا صِدْقٍ : سچا وَّاَخْرِجْنِيْ : اور مجھے نکال مُخْرَجَ : نکالنا صِدْقٍ : سچا وَّاجْعَلْ : اور عطا کر لِّيْ : میرے لیے مِنْ لَّدُنْكَ : اپنی طرف سے سُلْطٰنًا : غلبہ نَّصِيْرًا : مدد دینے والا
اے نبیؐ، ان لوگوں سے کہہ دو کہ "ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے، اب یہ تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے"
[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [كُلٌّ: سب (لوگ)] [يَّعْمَلُ : عمل کرتے ہیں ] [عَلٰي شَاكِلَتِهٖ : اپنی طبیعت پر ] [فَرَبُّكُمْ : تو تم لوگوں کا رب ] [اَعْلَمُ : خوب جاننے والا ہے ] [بِمَنْ : اس کو ] [هُوَ : جو ] [اَهْدٰى: زیادہ ہدایت پر ہے ] [سَبِيْلًا : بلحاظ راستے کے ] ش ک ل (ن) شَکْلًا شکل و صورت میں مشابہت ہونا۔ ملتا جلتا ہونا۔ وَاٰخَرُ مِنْ شَکْلِہٖ اَزْوَاجٌ (اور دوسرے اس کے ملتے جلتے سے کچھ جوڑے) 38:58 شَاکِلَۃٌ اسم الفاعل شاکل کا مؤنث ہے۔ مشابہہ ہونے والی۔ پھر اس سے مراد لیتے ہیں آدمی کی طبیعت و مزاج کیونکہ اس کا عمل اس کے مطابق ہوتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 84
Top