Ashraf-ul-Hawashi - Az-Zumar : 21
وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا
وَقُلْ : اور کہیں رَّبِّ : اے میرے رب اَدْخِلْنِيْ : مجھے داخل کر مُدْخَلَ : داخل کرنا صِدْقٍ : سچا وَّاَخْرِجْنِيْ : اور مجھے نکال مُخْرَجَ : نکالنا صِدْقٍ : سچا وَّاجْعَلْ : اور عطا کر لِّيْ : میرے لیے مِنْ لَّدُنْكَ : اپنی طرف سے سُلْطٰنًا : غلبہ نَّصِيْرًا : مدد دینے والا
اے دیکھنے والے) کیا تو نہیں دیکھتا اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پھ رزمین میں اس کے چشمے چلا دیئے وہ پانی ایک جگہ سے بہتا ہوا دوسری جگہ گیا پھ راس پانی سے رنگ برنگ کی کھیتی نکالتا ہے پھر جب وہ پک جاتی ہے تو اس کو دیکھتا ہے زرد ہوگئی پھر اللہ تعالیٰ اس کو سکھا کر چورہ چورہ کردیا ت ہے ان باتوں میں عقلمندوں کے لئے (بڑی) نصیحت ہے7
7 کیونکہ یہی حال انسان کا ہے۔ پہلے بچہ ہوتا ہے، پھر جوان ہوتا ہے پھر پختہ ہو کر بوڑھا ہوجاتا ہے اور آخر کار دنیا سے سدھار جاتا ہے اور یہی حال دنیا کا ہے۔ اس کی سب زمینیں عارضی اور چند روزہ ہیں اور آخر کار اس کی ہر چیز کو فنا ہونا ہے۔ اس کے ہر کمال کو انحطاط اور ہر عروج کو زوال ہے۔
Top