Tafseer-al-Kitaab - Al-Faatiha : 38
اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ
أَوْ کَصَيِّبٍ : یا جیسے بارش ہو مِنَ السَّمَاءِ : آسمان سے فِيهِ : اس میں ظُلُمَاتٌ : اندھیرے ہوں وَرَعْدٌ : اور گرج وَبَرْقٌ : اور بجلی يَجْعَلُونَ : وہ ٹھونس لیتے ہیں أَصَابِعَهُمْ : اپنی انگلیاں فِي آذَانِهِمْ : اپنے کانوں میں مِنَ الصَّوَاعِقِ : کڑک کے سبب حَذَرَ الْمَوْتِ : موت کے ڈر سے وَاللَّهُ : اور اللہ مُحِيطٌ : گھیرے ہوئے ہے بِالْکَافِرِينَ : کافروں کو
ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام فرمایا۔ نہ ان کی جن پر (تیرا) غضب (نازل) ہوا اور نہ گمراہوں کی۔
[14] انعام سے مراد دینی انعام ہے۔ انعام پانے والے چار گروہ ہیں، انبیاء، شہداء، صدیقین اور صالحین جیسا کہ سورة النساء کی آیت 69 سے واضح ہے۔ (دیکھئے صفحہ نمبر 291) [15] غضب کے مستحق وہ لوگ ہیں جو تحقیق کے باوجود راہ ہدایت کو چھوڑ دیں اور گمراہ وہ ہیں جو صراط مستقیم کی تلاش نہ کرنا چاہیں۔
Top