Al-Qurtubi - Al-Waaqia : 47
وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ
وَكَانُوْا يَقُوْلُوْنَ : اور وہ کہا کرتے تھے اَئِذَا : کیا جب مِتْنَا : ہم مرجائیں گے وَكُنَّا تُرَابًا : اور ہم ہوں گے مٹی وَّعِظَامًا : اور ہڈیاں ءَاِنَّا : کیا بیشک ہم لَمَبْعُوْثُوْنَ : ہم پھر دوبارہ اٹھائے جائیں گے
اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں (ہی ہڈیاں رہ گئے) تو کیا ہمیں پھر اٹھنا ہوگا
وگانو یقولون ائذا متنا یہ ان کی جانب سے بعث کے امرا کو حقیقت سے بعید خیال کرنا اور اس کو جھٹلانا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قل اے محمد ! انہیں کہو ان الاولین والاخرین۔ لمجموعون الی میقات یوم معلوم۔ اولین سے مراد تمہارے آباء، آخرین سے مراد تمہاری ذاتیں ہیں۔ میقات یوم معلوم مراد یوم قیامت ہے۔ کلام کا معنی قسم ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان لمجموعون میں لام کا دخول قسم کے معنی پر دال ہے یعنی تم ضرور جمع ہو گے یہ حقیقی قسم ہے جو تمہاری باطل قسم کے خلاف ہے۔ ثم انکم ایھا الضالون ہدایت سے بھٹکے ہیء وہا المکذبون۔ بعث کو جھٹلانے والے ہو۔ لا کلون من شجر من زقوم۔ زقوم سے مراد ایسا درخت ہے جس کا منظر بڑا کر یہ ہوتا ہے اور اس کا ذائقہ بھی بڑا ناپسندیدہ ہوتا ہے۔ یہ وہ ہے جس کا ذکر سورة صافات میں گزرا ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 456 2 ؎۔ ایضاً ، جلد 5، صفحہ 457 3 ؎۔ ایضاً
Top