Tafseer-e-Baghwi - Al-An'aam : 37
وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ
وَكَانُوْا يَقُوْلُوْنَ : اور وہ کہا کرتے تھے اَئِذَا : کیا جب مِتْنَا : ہم مرجائیں گے وَكُنَّا تُرَابًا : اور ہم ہوں گے مٹی وَّعِظَامًا : اور ہڈیاں ءَاِنَّا : کیا بیشک ہم لَمَبْعُوْثُوْنَ : ہم پھر دوبارہ اٹھائے جائیں گے
اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے
46 ۔” وکانوا یصرون “ قائم رہتے تھے۔ ” علی الحنث العظیم “ کبیرہ گناہ پر اور وہ شرک ہے۔ شعبی (رح) فرماتے ہیں ” الذنب العظیم “ جھوٹی قسم ” یمین غموس “ ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ وہ قسمیں کھاتے تھے کہ وہ نہیں اٹھائے جائیں گے اور اس میں انہوں نے جھوٹ بولا۔
Top