Tafseer-e-Usmani - Al-Waaqia : 47
وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ
وَكَانُوْا يَقُوْلُوْنَ : اور وہ کہا کرتے تھے اَئِذَا : کیا جب مِتْنَا : ہم مرجائیں گے وَكُنَّا تُرَابًا : اور ہم ہوں گے مٹی وَّعِظَامًا : اور ہڈیاں ءَاِنَّا : کیا بیشک ہم لَمَبْعُوْثُوْنَ : ہم پھر دوبارہ اٹھائے جائیں گے
اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں (ہی ہڈیاں رہ گئے) تو کیا ہمیں پھر اٹھنا ہوگا
47 : وَکَانُوْا یَقُوْلُوْنَ اَئِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ (اور کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہو کر رہ گئے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے) نحو : تقدیر عبارت اس طرح ہے أنبعث اذا متنا اور ظرف میں یہی عامل ہے اور اس کا حذف جائز ہے۔ اس لئے کہ مبعوثون اس پر دلالت کر رہا ہے۔ البتہ مبعوثون اس کا عامل نہیں۔ کیونکہ اِنَّ اور استفہام اس بات سے مانع ہیں کہ ان کا مابعد ماقبل میں عمل کرے۔
Top