Anwar-ul-Bayan - Al-Hijr : 82
وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ
وَكَانُوْا يَقُوْلُوْنَ : اور وہ کہا کرتے تھے اَئِذَا : کیا جب مِتْنَا : ہم مرجائیں گے وَكُنَّا تُرَابًا : اور ہم ہوں گے مٹی وَّعِظَامًا : اور ہڈیاں ءَاِنَّا : کیا بیشک ہم لَمَبْعُوْثُوْنَ : ہم پھر دوبارہ اٹھائے جائیں گے
اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں (ہی ہڈیاں رہ گئے) تو کیا ہمیں پھر اٹھنا ہوگا
(56:47) وکانوا یقولون : ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر غائب جس کا مرجع اصحب الشمال ہے۔ جیسا کہ اوپر ان کا بیان چلا آرہا ہے ائذا متنا وکنا تراباء انا لمبعوثون۔ ائذا : میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے اذا ظرف زمان ہے۔ ترابا وعظاما منصوب بوجہ خبر کنا۔ تراب خاک ، مٹی، اصل میں تراب خود زمین کا نام ہے۔ عظام عظیم کی جمع، ہڈیاں ء استفہام انکاری، لمبعوثون۔ لام تاکید کا مبعثونون اسم مفعول جمع مذکر، دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے ہوئے۔ بعث (باب فتح) مصدر بمعنی دوبارہ زندہ کرکے اٹھانا، بھیجنا۔
Top