Tafseer-e-Madani - Al-Waaqia : 47
وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ
وَكَانُوْا يَقُوْلُوْنَ : اور وہ کہا کرتے تھے اَئِذَا : کیا جب مِتْنَا : ہم مرجائیں گے وَكُنَّا تُرَابًا : اور ہم ہوں گے مٹی وَّعِظَامًا : اور ہڈیاں ءَاِنَّا : کیا بیشک ہم لَمَبْعُوْثُوْنَ : ہم پھر دوبارہ اٹھائے جائیں گے
اور یہ لوگ (بڑے تعجب سے اور استہزا کے طور پر) کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو کیا واقعی ایسی حالت میں ہم دوبارہ اٹھا کھڑے کیے جائیں گے ؟
[ 43] منکرین کے بعث بعد الموت پر استعجاب کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ استفہام تعجب وانکار کیلئے ہے، کہ ایسا کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ کہ جب ہم مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے، تو ہم کو ازسر نو پھر زندہ کر کے اٹھا دیا جائے، سو یہی تعجب واستبعاد ہمیشہ انسان کیلئے دولت ایمان سے محرومی کا باعث بنا، کل بھی اس قاصر الفہم اور کوتاہ بین انسان کا یہی حال تھا، اور آج بھی یہی ہے، اور بنیادی غلط فہمی ایسے لوگوں کی ہمیشہ یہی رہی کہ وہ حضرت قادر مطلق سبحانہ وتعالیٰکو اپنے اوپر قیاس کرتے ہیں کہ جب ان کے اعتبار سے اور ان کی نظر میں یہ کام انہونا، اور ناممکن ہے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا، اور اس طرح یہ لوگ نورحق و ہدایت سے اور دور ہوتے گئے، اور جب ان کو آخرت کے حساب کتاب سے آگاہ کیا جاتا تو یہ اس کو ماننے اور قبول کرنے کی بجائے الٹا اس کا مذاق اڑاتے تھے اور اس طرح محروم سے محروم تر ہوگئے، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔
Top