Al-Quran-al-Kareem - Al-Hijr : 82
وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ
وَكَانُوْا يَقُوْلُوْنَ : اور وہ کہا کرتے تھے اَئِذَا : کیا جب مِتْنَا : ہم مرجائیں گے وَكُنَّا تُرَابًا : اور ہم ہوں گے مٹی وَّعِظَامًا : اور ہڈیاں ءَاِنَّا : کیا بیشک ہم لَمَبْعُوْثُوْنَ : ہم پھر دوبارہ اٹھائے جائیں گے
اور کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا پھر ہم زندہ کیے جائیں گے
وہ کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مر گئے ‘ مٹی اور ہڈیاں ہوگئے ‘ کیا ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے ؟ 47۔ قیامت اپنے اندر کتنی عظیم الشان حقیقت رکھتی ہے لیکن اہل عرب کو توحید کے بعد جس عقیدہ سے شدت کے ساتھ انکار تھا اور جس کے ماننے پر وہ کسی طرح آمادہ نہیں ہوتے تھے اور جو ان کی عقل میں کسی طرح نہیں سماتا تھا وہ یہی قیامت اور حشرو نشر کا مسئلہ ہے۔ جاہل عرب حیات بعد الموت ، اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال کے مواخذہ اور پرسش اور سزاو جزاء سے قطعاً لا علم تھے اسی لیے ان کو اعمال کے خیر و شر اور نیکی و بدی میں وہ تمیز نہ تھی جس پر اخلاق و معاملات کا تمام تر دارومدار ہے۔ عرب کا شاعر نبی اعظم و آخر ﷺ کی اس تعلیم کو اس کر تعجب سے کہتا ہے کہ امرت ثم بعث ثم حشر حدیث حرافۃ یا ام عمر کیا موت ہے ‘ پھر جی اٹھنا ‘ پھر اکٹھا ہونا ہے ‘ اے اُم عمر ! یہ سب حرافات باتیں ہیں اور اسی طرح قریش کا ایک اور شاعر کہتا ہے کہ یحدثنا النبیُّ بان یحی و کیف حیات اصدائُ وہام یہ نبی ہم سے کہتا ہے کہ ہم پھر زندہ کیے جائیں گے حالانکہ صدا اور ہام ہو کر پھر زندگی کیسی ؟ اس سلسلہ میں ہم اس قبل عروۃ الوثقیجلد سوم میں سورة الانعام کی آیت 29 جلد پنجچ سورة بنی اسرائیل 49 ‘ 97 جلد ششم سورة المؤمنون آیت 82 جلد ہفتم سورة الصافات 16 ‘ سورة یٰسٓ آیت 78 ‘ جلد ہشتم سورة ق آیت 3 ‘ سورة الجاثیہ آیت 23 میں وضاحت کر آئے ہیں۔ ان کے مذاق کا یہ عالم تھا کہ خباب بن الارث ؓ نہایت قدیم مسلمانوں میں سے تھے اور یہ لوہاری کا پیشہ کرتے تھے ۔ ان کے کچھ دام قریش کے ایک رئیس عاص بن وائل پر واجب الادا تھے۔ وہ جب جا کر تقاضا کرتے تو عاص کہتا جب تک تم محمد ﷺ کا انکار نہ کرو گے میں تم کو کچھ نہیں دوں گا۔ ایک روز انھوں نے کہا کہ یہ تو میں اس وقت نہیں کرسکتا جب تک تو مر کر پھر زندہ نہیں ہو۔ اس نے کہا کہ اچھا مرکر مجھے پر زندہ ہونا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ! بلا شبہ تم کو مر کر پھر زندہ ہونا ہے تو اس نے ازاراہ مذاق کہا کہ اچھا اسی وقت تم اپنے دام بھی مجھ سے وصول لینا۔ (صحیح بخاری تفسیر سورة مریم ص 661) اس سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ اس بارہ میں اہل عرب کا کفر کتنا شدید تھا۔ یہی وجہ ہے کہ منی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کے سامنے توحید کے بعد جس عقیدہ کو سب سے زیادہ زور کے ساتھ پیش کیا وہ یہی عقیدہ تھا۔
Top