تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 17. Al-Israa · Ayah 61

  1. وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ﴿61﴾

    1. وَاِذْاور جب
    2. قُلْنَاہم نے کہا
    3. لِلْمَلٰٓئِكَةِفرشتوں سے
    4. اسْجُدُوْاتم سجدہ کرو
    5. لِاٰدَمَآدم کو
    6. فَسَجَدُوْٓاتو انہوں نے سجدہ کیا
    7. اِلَّآسوائے
    8. اِبْلِيْسَابلیس
    9. قَالَاس نے کہا
    10. ءَاَسْجُدُکیا میں سجدہ کروں
    11. لِمَنْاس کو جسے
    12. خَلَقْتَتونے پیدا کیا
    13. طِيْنًامٹی سے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ بولا کہ بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کرو جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
ابلیس کی قدیمی دشمنی ابلیس کی قدیمی عداوت سے انسان کو اگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ باپ حضرت آدم ؑ کا کھلا دشمن تھا، اس کی اولاد برابر اسی طرح تمہاری دشمن ہے، سجدے کا حکم سن کر سب فرشتوں نے تو سر جھکا دیا لیکن اس نے تکبر جتایا، اسے حقیر سمجھا اور صاف انکار کردیا کہ ناممکن ہے کہ میرا سر کسی مٹی سے بنے ہوئے کے سامنے جھکے، میں اس سے کہیں افضل ہوں، میں آگ ہوں یہ خاک ہے۔ پھر اس کی ڈھٹائی دیکھیے کہ اللہ جل و علی کے دربار میں گستاخانہ لہجے سے کہتا ہے کہ اچھا اسے اگر تو نے مجھ پر فضیلت دی تو کیا ہوا میں بھی اس کی اولاد کو برباد کر کے ہی چھوڑوں گا، سب کو اپنا تابعدار بنا لوں گا اور بہکا دوں گا، بس تھوڑے سے میرے پھندے سے چھوٹ جائیں گے باقی سب کو غارت کر دوں گا۔