Al-Quran-al-Kareem - Az-Zumar : 22
فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ
فَاَذَاقَهُمُ : پس چکھایا انہیں اللّٰهُ : اللہ الْخِزْيَ : رسوائی فِي : میں الْحَيٰوةِ : زندگی الدُّنْيَا ۚ : دنیا وَلَعَذَابُ : اور البتہ عذاب الْاٰخِرَةِ : آخرت اَكْبَرُ ۘ : بہت ہی بڑا لَوْ : کاش كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ : وہ جانتے ہوتے
اور اِس نعمت میں اپنا حصّہ تم نے یہ رکھا ہے کہ اِسے جُھٹلاتے ہو؟ 41
سورة الْوَاقِعَة 41 امام رازی نے تَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ کی تفسیر میں ایک احتمال یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ یہاں لفظ رزق معاش کے معنی میں ہو۔ چونکہ کفار قریش قرآن کی دعوت کو اپنے معاشی مفاد کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے اور ان کا خیال یہ تھا کہ یہ دعوت اگر کامیاب ہوگئی تو ہمارا رزق مارا جائے گا، اس لیے اس آیت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم نے اس قرآن کی تکذیب کو اپنے پیٹ کا دھندا بنا رکھا ہے۔ تمہارے نزدیک حق اور باطل کا سوال کوئی اہمیت نہیں رکھتا، اصل اہمیت تمہاری نگاہ میں روٹی کی ہے اور اس کی خاطر حق کی مخالفت کرنے اور باطل کا سہارا لینے میں تمہیں کوئی تامل نہیں۔
Top