Madarik-ut-Tanzil - Al-Israa : 10
وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ
وَلَئِنْ : اور اگر شِئْنَا : ہم چاہیں لَنَذْهَبَنَّ : تو البتہ ہم لے جائیں بِالَّذِيْٓ : وہ جو کہ اَوْحَيْنَآ : ہم نے وحی کی اِلَيْكَ : تمہاری طرف ثُمَّ : پھر لَا تَجِدُ : تم نہ پاؤ لَكَ : اپنے واسطے بِهٖ : اس کے لیے عَلَيْنَا : ہمارے مقابلہ) پر وَكِيْلًا : کوئی مددگار
اور یہ بھی (بتاتا ہے) کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے
10: وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ ای بان الذین۔ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ اَعْتَدْنَا (کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے تیار کر رکھا ہے) لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا (ان کے لئے دردناک عذاب) آگ۔ ردِاعتزال : معتزلہ کے اس قول کی تردید ہے گناہ گار نہ مومن رہتا ہے اور نہ کافر ہوتا ہے یہاں ایمان والوں اور ان کے بدلہ کا ذکر کیا اور کفار اور ان کی سزا کا تذکرہ کیا۔ درمیان والوں کا ذکر نہیں کیا۔
Top