Ashraf-ul-Hawashi - Nooh : 27
مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا
مِمَّا : مگر گمراہی میں خَطِيْٓئٰتِهِمْ : خطائیں تھیں ان کی اُغْرِقُوْا : وہ غرق کیے گئے فَاُدْخِلُوْا : پھر فورا داخل کیے گئے نَارًا : آگ میں فَلَمْ : پھر نہ يَجِدُوْا : انہوں نے پایا لَهُمْ : اپنے لیے مِّنْ دُوْنِ : سوا اللّٰهِ : اللہ کے اَنْصَارًا : کوئی مددگار
کیونکہ اگر تو ان کو چھوڑ دے گا تو تیرے بندوں کہ بہکائیں گے اور ان کی جو اولاد ہوگی وہ بھی بدکار سخت ناشکری ہی ہوگی1
1 یہ حضرت نوح نے اس تجربہ کی بنا پر فرمایا جو انہیں اپنی قوم میں 95 سال تک دعوت و تبلیغ کا کام کرتے رہنے کے بعد حاصل ہوا تھا۔
Top