اس واقعہ میں عبرت بھی ہے اور نصیحت بھی :
141: یہود کو ان کے حیلے کی سزا مختلف گروہ بندیوں میں تقسیم ہوجانے کی صورت میں ملی۔ ہمارے اسلامی حیلوں کی سزا ہمیں مل رہی ہے یا نہیں ؟ اس کا فیصلہ قارئین ” عروۃ الوثقیٰ “ خود کرلیں۔ اس واقعہ کو دیکھنے اور سننے والے دو قسم کے لوگ تھے اور ہیں یعنی فرمانبردار اور نافرمان ۔ چونکہ نافرمانوں کے لئے تو یہ واقعہ نافرمانی سے توبہ کرانے والا تھا اور ہے اس لئے اس کو ” نکال “ فرمایا اور فرمانبرداروں کو یہ واقعہ فرمانبرداری پر قائم رکھنے والا تھا اور ہے اس لئے اس کو ” مَوْعِظَةً “ سے تعبیر کیا ہے اور یہ بات پہلے معلوم ہوچکی ہے کہ متقی وہی ہوتے ہیں جو نصحیت حاصل کرتے ہیں اور ماننے والی بات یعنی حق کو فوراً مان لیتے ہیں۔