Tafseer-e-Usmani - Al-Baqara : 100
فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ
فَوَيْلٌ : سو خرابی ہے لِلَّذِیْنَ : ان کے لیے يَكْتُبُوْنَ : لکھتے ہیں الْكِتَابَ : کتاب بِاَيْدِيهِمْ : اپنے ہاتھوں سے ثُمَّ : پھر يَقُوْلُوْنَ : کہتے ہیں هٰذَا : یہ مِنْ : سے عِنْدِ اللہِ : اللہ کے پاس لِيَشْتَرُوْا : تاکہ وہ حاصل کریں بِهٖ : اس سے ثَمَنًا : قیمت قَلِیْلًا : تھوڑی فَوَيْلٌ : سوخرابی لَهُمْ : ان کے لئے مِمَّا : اس سے کَتَبَتْ : جو لکھا اَيْدِيهِمْ : ان کے ہاتھ وَوَيْلٌ : اور خرابی لَهُمْ : ان کے لئے مِمَّا : اس سے جو يَكْسِبُوْنَ : وہ کماتے ہیں
کیا جب کبھی باندھیں گے کوئی قرار تو پھینک دیگی اس کو ایک جماعت ان میں سے بلکہ ان میں اکثر یقین نہیں کرتے3
3  یعنی ان کی عادت قدیم ہے کہ جب اللہ یا رسول یا کسی شخص سے کوئی عہد مقرر کرتے ہیں تو انہی میں کی ایک جماعت اس عہد کو پس پشت ڈال دیتی ہے بلکہ بہت یہودی ایسے ہیں جو تورات پر ایمان ہی نہیں رکھتے ایسوں کو عہد شکنی میں کیا باک ہوسکتا ہے۔
Top