Tafseer-e-Madani - Al-An'aam : 56
قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ
قُلْ : کہ دیں اِنِّىْ : بیشک میں نُهِيْتُ : مجھے روکا گیا ہے اَنْ اَعْبُدَ : کہ میں بندگی کروں الَّذِيْنَ : وہ جنہیں تَدْعُوْنَ : تم پکارتے ہو مِنْ : سے دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا قُلْ : کہ دیں لَّآ اَتَّبِعُ : میں پیروی نہیں کرتا اَهْوَآءَكُمْ : تمہاری خواہشات قَدْ ضَلَلْتُ : بیشک میں بہک جاؤں گا اِذًا : اس صورت میں وَّمَآ اَنَا : اور میں نہیں مِنَ : سے الْمُهْتَدِيْنَ : ہدایت پانے والے
کہو مجھے تو بہر حال اس سے روکا گیا ہے کہ میں ان کی بندگی کروں جنہیں تم لوگ (پوجتے) پکارتے ہو اللہ کے سوا، کہو کہ میں کبھی پیروی نہیں کرسکتا تمہاری خواہشات کی بلاشبہ اس صورت میں میں بھٹک جاؤں گا اور راہ راست پر چلنے والوں میں سے نہ رہوں گا
93 " غیراللّٰہ " کی پوجا کی ممانعت کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کہ مجھے تو بہرحال روکا گیا ہے اس بات سے کہ میں ان کی بندگی کروں جن کو تم لوگ پوجتے پکارتے ہو اللہ کے سوا۔ خواہ وہ لکڑ پتھر وغیرہ کے بےجان بت ہوں یا اور کسی زندہ یا مردہ انسان کی شکل میں دوسری کوئی ایسی ہستی ہو جس سے خدائی صفات وابستہ کردی گئی ہوں کہ ۔ { مِنْ دُوْنِ اللہ } ۔ کا کلمہ عام ہے۔ جو ان سب ہی کو شامل ہے۔ اور اہل بدعت جو اس کو صرف بتوں کے ساتھ مختص قرار دے کر اپنے لئے شرک کے دروازے کھلے رکھنا چاہتے ہیں تو ان سے پوچھا جائے کہ اس تخصیص کی آخر ان کے پاس دلیل کیا ہے ؟ اور اس کی ضرورت کیا ہے ؟ اور اگر اس سے یہی مراد ہے جیسا کہ ان لوگوں کا کہنا ہے تو پھر اس کو ۔ { مِنْ دُوْنِ اللہ } ۔ کی بجائے " اَوثان " یا " اَصنام " جیسے خاص لفظوں ہی سے تعبیر کیوں نہیں فرما دیا گیا ؟ اور پھر یہ بھی واضح رہے کہ مشرکین بھی عام پتھروں کی پوجا نہیں کرتے تھے بلکہ وہ ان خاص پتھروں کی پوجا کیا کرتے تھے جن کو وہ اپنے خیال کے مطابق خاص ہستیوں کے نام پر تراشتے خراشتے تھے۔ اور پھر کہتے تھے کہ اب ان پتھروں کے اندر ان ہستیوں کی روحیں عود کر آئی ہیں جن کے نام پر یہ تراشے گئے ہیں۔ اور ان ہستیوں نے ان کے اندر حلول کرلیا ہے۔ اور اب یہ پتھر وہی کام کریں گے جو وہ ہستیاں اپنی زندگیوں میں کیا کرتی تھیں۔ لہذا ہماری ان کے آگے اور ان کی ان کے آ گے۔ تو ان کے نزدیک بھی اصل میں حاجت روا اور مشکل کشا یہ بت نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ ہستیاں ہوتی تھیں جن کا یہ لوگ ان بتوں کو مظہر اور اوتار مانتے تھے۔ سو اس وقت کے ان مشرکین کا فلسفہ بھی یہی تھا اور آج کے مشرکوں کا فلسفہ بھی یہی ہے۔ بہرکیف اس سے غیر اللہ کی پوجا و بندگی کی ممانعت صاف وصریح طور پر فرما دی گئی ہے کہ معبود برحق بہرحال ایک اور صرف ایک ہے۔ یعنی اللہ وحدہٗ لاشریک۔ اور عبادت کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ اس کے سوا کسی کے لیے بھی عبادت و بندگی کی کوئی بھی قسم کسی بھی شکل میں بجا لانا شرک ہے جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ شرک کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 94 دین کے نام سے خواہشات نفس کی پیروی کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ میں کبھی تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرسکتا۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اسلام کے سوا باقی تمام دین دراصل خواہشات نفس کی پیروی کا سامان ہیں اور بس ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ دین حق ایک اور صرف ایک ہے۔ یعنی اسلام۔ معلوم ہوا کہ دین حق اسلام کے سوا باقی جو بھی دین لوگوں نے اپنا رکھے ہیں وہ سب دراصل نفسانی خواہشات کی تکمیل کے سامان ہیں جو ان لوگوں نے طرح طرح کے ناموں سے از خود گھڑگھڑ کر اپنا رکھے ہیں اور بس۔ نہ حق و ہدایت کی وہاں کوئی رمق و روشنی ہے اور نہ ہی ان کے حامیوں اور علمبرداروں کے یہاں اس کی کوئی ضرورت اور طلب و تلاش ہے۔ عیاشیوں اور عیش پرستیوں کے مختلف سازوسامان اور طور طریقے ہیں جو نور حق و ہدایت سے محروم لوگوں اور بطون و فروج کے بندوں نے اپنا رکھے ہیں۔ اور اس کی واقعاتی شہادت کے طور پر اگر دیکھنا ہو تو وہ کچھ دیکھ لیا جائے جو کہ گرجوں، مندروں اور آستانوں وغیرہ میں ہوتا ہے کہ ھویٰ و ہوس کی تسکین اور کام و دہن کی لذتوں اور طرح طرح کی عیاشیوں اور عیش کوشیوں کے نت نئے اور قسما قسم کے سامان وہاں پر موجود ہوتے ہیں۔ اسی لئے قرآن حکیم نے دوسرے کئی مقامات کی طرح یہاں بھی ان لوگوں کی ان خرافات کو دین کی بجائے { اَہْوَاء } کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے کہ یہ دین نہیں بلکہ تمہاری اھواء و اَغراض اور خواہشات ہیں جن کی پیروی اور پوجا تم لوگ دین کے نام سے کرتے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اپنی اس خواہش پرستی کو تم لوگوں نے دین کے نام سے اور اس کے لبادے میں اپنا رکھا ہے مگر تابہ کے ؟ آخر تم لوگوں کو اس کا پورا پورا حساب دینا اور اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا اور ایسا کہ تمہارے لیے کوئی راہ فرار ممکن نہیں ہوگی ۔ والعیاذ باللہ - 95 اتباع ہوی کا نتیجہ محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اتباع ہوی یعنی خواہشات نفس کی پیروی کا نتیجہ و انجام محرومی ہی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی صورت میں یعنی جب کہ میں پیروی کرنے لگ جاؤں تمہاری خواہشات کی تو میں یقینا بھٹک جاؤں گاراہِ حق و ہدایت سے۔ کیونکہ تمہاری یہ رسوم وطقوم دین نہیں بلکہ دین کے نام پر خواہش پرستی کے طور طریقے اور راہ حق و صواب سے انحراف ہے۔ اور یہ احکام خداوندی کے بھی خلاف ہے اور نقل صحیح اور عقل سلیم کے بھی۔ سو اس میں ان لوگوں پر یہ تلمیح و تعریض بھی ہے کہ تم لوگ نور حق و ہدایت سے محروم اور ضلالت و گمراہی کی وادیوں میں پڑے بھٹک رہے ہو۔ سو نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر خواہشات نفس کے پیچھے لگنا محرومی ہی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لئے یہاں پر واضح طور پر اعلان کروا دیا گیا کہ ایسے نہیں ہوسکتا کہ میں تمہاری ان خواہشات کی پیروی میں لگ جاؤں۔ کیونکہ ایسی صورت میں یقینی طور پر میں راہ حق و صواب سے بھٹک جاؤنگا اور پھر کبھی راہ راست نہیں پا سکوں گا۔ اور صراط مستقیم سے انحراف اور اس سے محرومی سب سے بڑا اور نہایت ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس تمہاری ان خواہشات کی پیروی کرنا میرے لیے ممکن نہیں جن کو تم لوگ دین کے نام سے اپنائے ہوئے ہو کہ ہلاکت اور تباہی کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top