Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
267
268
269
270
271
272
273
274
275
276
277
278
279
280
281
282
283
284
285
286
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Fi-Zilal-al-Quran - Al-Baqara : 258
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ
اَلَمْ تَرَ
: کیا نہیں دیکھا آپ نے
اِلَى
: طرف
الَّذِيْ
: وہ شخص جو
حَآجَّ
: جھگڑا کیا
اِبْرٰھٖمَ
: ابراہیم
فِيْ
: بارہ (میں)
رَبِّهٖٓ
: اس کا رب
اَنْ
: کہ
اٰتٰىهُ
: اسے دی
اللّٰهُ
: اللہ
الْمُلْكَ
: بادشاہت
اِذْ
: جب
قَالَ
: کہا
اِبْرٰھٖمُ
: ابراہیم
رَبِّيَ
: میرا رب
الَّذِيْ
: جو کہ
يُحْيٖ
: زندہ کرتا ہے
وَيُمِيْتُ
: اور مارتا ہے
قَالَ
: اس نے کہا
اَنَا
: میں
اُحْيٖ
: زندہ کرتا ہوں
وَاُمِيْتُ
: اور میں مارتا ہوں
قَالَ
: کہا
اِبْرٰھٖمُ
:ابراہیم
فَاِنَّ
: بیشک
اللّٰهَ
: اللہ
يَاْتِيْ
: لاتا ہے
بِالشَّمْسِ
: سورج کو
مِنَ
: سے
الْمَشْرِقِ
: مشرق
فَاْتِ بِهَا
: پس تو اسے لے آ
مِنَ
: سے
الْمَغْرِبِ
: مغرب
فَبُهِتَ
: تو وہ حیران رہ گیا
الَّذِيْ كَفَرَ
: جس نے کفر کیا (کافر)
وَاللّٰهُ
: اور اللہ
لَا يَهْدِي
: نہیں ہدایت دیتا
الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ
: ناانصاف لوگ
کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور نہیں کیا جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑا کیا تھا۔ جھگڑا اس بات پر کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا رب کون ہے اور اس بناپر کہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی ۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے ۔ “ تو اس نے جواب دیا : زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اچھا ، اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو ذرا اسے مغرب سے نکال لا۔ “ یہ سن کر وہ منکر حق ششدر رہ گیا ، مگر اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا۔
درس 18 ایک نظر میں یہ تین آیات ہیں اور ان کا موضوع ایک ہے یعنی زندگی اور موت کی حقیقت کیا ہے ؟ اور موت کے بعد زندگی کا راز کیا ہے ؟ حیات بعد الممات اسلامی نظریات کا ایک اہم پہلو ہے ۔ جس پر قرآن مجید میں بحث کی گئی ہے ۔ اور اس پارہ کے آغاز ہی سے جابجا اس پر بحث کی گئی ہے ۔ نیز ان آیات کا ان صفات الٰہی کے ساتھ بھی براہ راست تعلق ہے جو آیت الکرسی میں بیان کی گئی ہیں ۔ اور ان سب آیات سے قرآن کریم کی اس واضح جدوجہد کا اظہار ہوتا ہے ، جو قرآن مجید ، ایک مسلمان کے شعور وادراک میں ، ایک صحیح اسلامی تصور حیات کے پیدا کرنے کے لئے آرہا ہے ۔ اور انسانی زندگی کے بصیرت افروز جائزے کی خاطر اس بات کی ضرورت ہے کہ ذہن انسانی میں اس کا صاف ستھرا تصور موجود ہو ، جو اس کائنات کے حقیقی مشاہدے پر مبنی ہو ۔ اور جو مضبوط اور دل نشین اعتقاد پر مبنی ہو۔ اس لئے کہ انسان کے پورے نظام زندگی ، انسان کے مکمل طرز عمل اور اس کے تمام اخلاق وآداب کے قواعد و ضوابط کا ایک گہرا تعلق اگر اس عقائد ونظریات اور اس کے مکمل تصور کائنات کے ساتھ نہ ہو تو وہ نظام زندگی نہ تو مضبوط ومستحکم ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ایک مستقل معیار ہوسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے تطہیر افکار اور عقائد و تصورات کی توضیح اور پختگی پر بڑا زو دیا ہے اور قرآن کریم کا مکی دور زیدہ تر اسی پر مشتمل ہے ۔ اور یہی رنگ مدنی دور کی آیات میں بھی نظر آتا ہے ۔ جہاں تفصیلی ہدایات اور قانون سازی بھی ہورہی ہے ۔ ان میں سے پہلی آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے دور کے بادشاہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کو نقل کیا گیا ہے ۔ یہاں بادشاہ کا نام نہیں دیا گیا ، اس لئے کہ یہاں اس کے نام کے ذکر سے اصل بات میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا ۔ یہاں رسول اکرم ﷺ اور جماعت مسلمہ کے سامنے استعجاب کے ساتھ اس گفتگو کو پیش کیا جاتا ہے کہ اس شخص نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ رب کائنات کے بارے میں یہ مناظرہ کیا اور کس قدر احمقانہ موقف اختیار کیا ۔ اس نے اور قرآن کریم نے اپنے خاص بلیغانہ انداز میں اس مباحثے کو نقل کیا ہے ۔ یہ شخص جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ یہ مباحثہ کیا وہ وجود باری کا منکر نہ تھا۔ وہ اگر منکر تھا تو اللہ کی وحدانیت اور ربوبیت کا منکر تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کو اس کائنات میں واحد متصرف اور واحد مدبر ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔ اسی طرح جس طرح جاہلیت کے گمراہ لوگوں میں سے بعض ایسے تھے جو وجود باری کے معترف تھے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بعض دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے ۔ بعض افعال واقعات کو ان شریکوں کی طرف منسوب کرتے تھے ۔ اسی طرح یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت حاکمیت کے بھی منکر تھے ۔ اسلامی تصور کائنات کے مطابق جس طرح اس کائنات کے تکوینی امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اسی طرح یہاں قانون سازی اور اجتماعی امور کے فیصلے کا اختیار بھی اللہ کے پاس ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ یہ منکر حق بادشاہ بہت ہی ہٹ دھرم تھا اور یہ اس سبب کی وجہ سے منکر حق تھا کہ اسے اللہ نے حکومت دی رکھی تھی۔ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ................ حالانکہ اس سبب کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اس کی وجہ سے پکا مومن ہوتا اور شکر گزار ہوتا اور اللہ کے احسانات کا معترف ہوتا لیکن اس نے اس قتدار اور بادشاہت کی وجہ سے کفر و طغیان کا راستہ اختیار کیا ۔ اور اللہ کے اس انعام کی ناقدری کی اور اس انعام واکرام کی اصل حقیقت اور اس کے حقیقی تصور کو نہ پاسکا ۔ شکر کی جگہ اس نے کفر کی روش اختیار کی ۔ اور جو بات ان کی ہدایت کا سبب ہونا چاہئے تھی ، اس کی وجہ سے وہ گمراہ ہوگئے ۔ وہ حاکم اس لئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم اس لئے نہیں بنایا کہ وہ عوام کو خود اپنا بندہ بنالیں ۔ اور خود اپنے بنائے ہوئے قوانین کی پیروی کرائیں۔ وہ تو خود اللہ کے بندے ہیں جس طرح دوسرے لوگ اللہ کے بندے ہیں ۔ وہ بھی ان کی طرح اللہ سے شریعت پانے والے ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بغاوت کرکے نہ حاکم رہتے ہیں اور نہ کوئی قانون بناسکتے ہیں ۔ یہ حکام تو خلفاء ہیں اصل حاکم نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ بادشاہ نبی وقت کے ساتھ مباحثہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ طرز عمل عجیب نظر آتا ہے ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ................ ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور نہیں کیا جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑا کیا تھا۔ جھگڑا اس بات پر کہ ابراہیم کا رب کون ہے ؟ اس بناپر کہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی ۔ “ کیا تو نے نہیں دیکھا ! یہ قابل مذمت رویے اور حقارت آمیز طرز عمل پر استعجاب کا اظہار ہے ۔ انکار اور استنکار اپنے لفظی اور معنوی ہم آہنگی کی وجہ سے ایک ساتھ چلتے ہیں ۔ اس بادشاہ کی یہ حرکت فی الحقیقت ناپسندیدہ ہے ۔ اس لئے کہ انعام واکرام پانے کے سبب اگر کوئی جدل وجدال شروع کردے تو یقیناً قابل مذمت ہوتا ہے۔ نیز یہ بات بھی قابل مذمت ہے کہ کوئی رب کائنات کی صفات اپنے لئے مخصوص کرے ۔ اور کوئی حاکم اپنی خواہشات نفس کے مطابق عوام الناس پر حکمرانی کرے اور تقنین وتشریح کے کام میں اللہ سے ہدایت نہ لے ۔ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ................ ” جب ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے ۔ “ زندگی اور موت ایسے واقعات ہیں جن کا اعادہ ہر لحظہ ہوتا رہتا ہے ، یہ حقائق ہر وقت انسانی احساس اور انسانی عقل کے سامنے آتے رہتے ہیں لیکن باوجود اس تکرار اور کثرت وقوع کے زندگی اور موت ایک حیرت انگیز راز ہیں ۔ اس سربستہ راز کے حل کے لئے عقل انسانی ایک ایسے سرچشمے کی طرف رجوع کرتی ہے جو بشریت سے وراء ہے ۔ اور ایک ایسے مرجع اور مصدر کی رجوع جس کا اس مخلوقات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ لہٰذا اس ناقابل حل پہیلی کے صحیح حل کے لئے ضروری ہے کہ انسان ذات باری کی طرف رجوع کرے جو پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور فنا کرنے پر بھی قادر ہے ۔ آج تک ہم موت وحیات کی حقیقت نہیں پاسکے ۔ البتہ زندوں میں ہم زندگی کے آثار سمجھ لیتے ہیں اور مردوں سے ہم موت کی خصوصیات جان لیتے ہیں ۔ اس لئے ہم مجبور ہیں کہ موت وحیات کی حقیقت اس حقیقی قوت کے حوالے کردیں جو ان تمام قوتوں سے وراء ہے جن کو ہم جانتے ہیں یعنی قوت الٰہیہ ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی ایک ایسی صفت بیان کی جس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔ نہ کسی کو یہ زعم ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں شریک کار ہوسکتا ہے ۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) سے اس بادشاہ نے پوچھا کہ تمہارا رب کون ہے جو تمہارے لئے قانون بناتا ہے ، ، جس کے پاس اقتدار اعلیٰ ہے اور جسے قانون سازی کے پورے اختیارات حاصل ہیں ؟ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میرا رب وہ ہے جس کے ہاتھ میں موت وحیات ہے ۔ لہٰذا وہی ہے جو حاکم اور قانون ساز ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) موت وحیات کی حقیقت سے خوب واقف تھے ۔ اور موت اور زندگی سے ان کی مراد یہ تھی کہ اللہ ان حقائق کا خالق ہے ۔ اس لئے کہ وہ رسول تھے اور انہیں وہ لدنی اسرار و رموز عطاکئے گئے تھے جن کے بارے میں ہم نے حصہ اول میں بحث کی ہے ۔ اور موت وحیات کی تخلیق ایک ایسا عمل ہے جس میں اللہ کے ساتھ اس کے بندوں میں سے کوئی شریک نہیں ہے لیکن جو بادشاہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ مباحثہ کررہا تھا وہ یہ سمجھتا تھا کہ وہ اپنی قوم کا حاکم مختار ہے۔ اس کی قوم پر اس کے پورے احکام نافذ ہوتے ہیں ۔ وہ سزائے موت بھی دے سکتا ہے اور معاف بھی کرسکتا ہے ۔ تو گویا یہ بھی ایک قسم کی ربوبیت ہے ۔ اس لئے اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا :” میں اس قوم کا سردار ہوں ۔ ان کے معاملات میرے ہاتھ میں ہیں ۔ اس لئے میں ہی ایک قسم کا رب ہوں۔ جس کے سامنے تمہیں بھی جھکنا چاہئے اور مری حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرنا چاہئے ۔ “ چناچہ اس نے کہا أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ................” زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے ۔ “ اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ وہ اس کے ساتھ حقیقت موت وحیات کے موضوع پر تفصیلی بات چیت شروع کردیں ۔ خصوصاً ایسے شخص کے ساتھ جو حقیقت موت وحیات میں بذات خوداشتباہ میں تھا اور ڈانواں ڈول تھا ۔ جو ہمیشہ ایک مشکل مسئلہ رہی ہے ۔ یعنی یہ مشیئت کہ اللہ تعالیٰ انسان کو کس طرح زندگی عطا کرتے ہیں اور کس طرح اس پر موت طاری کردیتے ہیں ۔ یہ ایک ایسا راز ہے جس تک پوری انسانیت کی رسائی آج تک نہیں ہوسکی ہے ۔ اس لئے اس مقام پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مناسب سمجھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس مشکل تکوینی حقیقت سے ذرا ہٹ کر ایسی ظاہری سنت کا سہارالیں جو ہر وقت اس شخص کے مشاہدے میں آتی رہتی ہے ۔ پہلے تو آپ نے صرف تکوینی سنت الٰہیہ کو پیش کیا کہ اللہ وہ ہے جو زندگی اور موت عطا کرتا ہے ۔ اب انہوں نے اپنے مخالف کے لئے ظاہری چیلنج کا راستہ اختیار کیا کہ تم اللہ کی قدرت کے بارے میں جھگڑتے ہو تو اللہ کی سنن میں سے کسی سنت کو تبدیل کرکے دیکھ لو ۔ اور یہ چیلنج انہوں نے یہ دکھانے کے لئے دیا کہ رب وہ نہیں ہوتا جو انسانی زندگی کے کسی ایک شعبے میں حاکم ہو یا کسی ایک خطے میں حاکم ہو وہ تو اس پوری کائنات میں متصرف ہوتا ہے اور اس کی عمومی ربوبیت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ تمام لوگوں کے لئے قانون ساز بھی ہو اس لئے کہ وہ ان کا رب ہے ۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ................ ” ابراہیم نے کہا :” اچھا اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے ، تو ذرا اسے مغرب سے نکال لا۔ “ یہ بھی ایک مسلسل وقوع پذیر ہونے والی کائناتی حقیقت ہے ۔ ہماری نظر روز یہ نظارہ دیکھتی ہے اور ہماری قوت مدرکہ روز اسے پاتی ہے اور کبھی بھی اس نظام میں کوئی تعطل یا تاخیر واقعہ نہیں ہوتی ۔ یہ کائنات ایک شہادت ہے جو ہماری فطرت کو اپیل کرتی ہے ۔ اگرچہ ہم اس کائنات کی طبیعت اور مزاج کو اچھی طرح نہ سمجھ پا رہے ہوں ۔ اگرچہ ہم نے فلکیات کے بارے میں مختلف نظریات کا علم حاصل نہ کیا ہو ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جس قدر انبیاء مبعوث فرمائے ہیں انہوں نے ہمیشہ انسانی فطرت کو مخاطب کیا ہے ۔ چاہے فطرت انسانی اپنی علمی اور عقلی ترقی کے تاریخی مراحل میں سے جس مرحلے میں بھی ہو اور فطرت انسانی نے اجتماعی لحاظ سے ترقی کے جو مدارج بھی طے کئے ہوں انبیاء نے فطرت انسانی کا ہاتھ پکڑا ہے ۔ اور اسے ترقی کے اگلے مدارج تک پہنچایا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بادشاہ کو چیلنج دیا اور جو مطالعہ فطرت پر مبنی تھا وہ لاجواب تھا ۔ اور نتیجہ یہ نکلا فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ................ ” تو وہ منکر حق ششدر رہ گیا۔ “ یہ چیلنج اس منکر حق کے سامنے کھڑا تھا ۔ بات بالکل واضح تھی ، کسی غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہ تھی ۔ مناسب رویہ تو یہ تھا کہ وہ سیدھی طرح ایمان لے آتا اور سر تسلیم خم کردیتا لیکن جو شخص کافرانہ رویہ اختیار کرلیتا ہے اور پھر متکبر بھی ہوتا ہے ۔ یہ صفات اسے رجوع الی الحق سے روک لیتی ہیں اور وہ حیران رہ جاتا ہے ، پریشان ہوتا ہے اور متحیر ہوجاتا ہے ۔ اسے نہیں سوجھتا کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے ۔ لیکن اسے اللہ تعالیٰ راہ حق اس لئے نہیں سجھاتے کہ وہ ہدایت کا متلاشی ہی نہیں ہوتا ۔ اسے راہ حق کی طرف آنے کا شوق نہیں ہوتا ۔ وہ سیدھی راہ نہیں پکڑتا تاکہ منزل مقصود پائے ۔ اس لئے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ................ ” مگر اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا۔ “ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ اور آپ کی پہلی جماعت ، جماعت مسلمہ کے سامنے ، بغض عناد اور ضلالت اور ہٹ دھرمی کی مثال کے طور پر پیش فرمایا۔ نیز ان لوگوں کے لئے بھی جو دور جدید میں دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی تجربہ کے طور پر قرآن مجید میں درج کردیا گیا کہ اہل دعوت منکرین حق کا مقابلہ کس طرح کریں۔ سیاق کلام ایسے حقائق کو لے کے آگے بڑھتا جو ایمان ویقین کے ساتھ ایک واضح تصور کے عناصر ترکیبی ہیں ۔” میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں موت وحیات ہے۔ “ اور ” اللہ تو سورج کو مشرق سے نکال کر لاتے ہیں ، تم ذرا اسے مغرب سے نکال کر دکھاؤ۔ “ ایک حقیقت ایسی ہے جو نفوس انسانی میں پائی جاتی ہے ۔ دوسری حقیقت ایسی ہے جو آفاق کائنات میں عیاں ہے ۔ دونوں عظیم تکوینی حقیقتیں ہیں لیکن اپنی عظمت کے ساتھ ساتھ پیش پا افتادہ ہیں ۔ روز کے مشاہدے میں ہیں ۔ رات دن فکر ونظر کی آماجگاہ ہیں اور ان حقائق کے پانے کے لئے کسی بڑی علمی استعداد کی ضرورت نہیں ہے ۔ اور نہ کسی طویل غور وفکر کی ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحیم و کریم ہے ۔ وہ اللہ پر ایمان لانے اور اللہ کی جانب ہدایت پانے کے مسئلے پر اس قسم کی علمی اور منطقی بحث نہیں کرتا کہ جو کم علم آدمی کی دسترس سے باہر ہو یا ایسے لوگوں کی استعداد فکری کے دائرے سے باہر ہو جو غوروفکر کے معاملے میں طفل مکتب ہوں۔ یہ ایک زندہ اور اہم معاملہ ہے ۔ انسانی فطرت کے لئے وہ لابدی ہے ۔ اس کے بغیر انسانی زندگی استوار ہوسکتی ہے نہ انسانی معاشرہ اس کے بغیر منظم ہوسکتا ہے ۔ اس کے بغیر انسان یہ پہچان حاصل نہیں کرسکتے کہ ان کے اجتماعی نظام اور اعلیٰ اقتدار اور آداب کا ماخذ کیا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ایمان کے مسئلہ میں انسان کے ساتھ ایسے حقائق کو پیش نظر رکھ کر بات کرتا ہے ، جو سب کے سامنے ہوتے ہیں اور جن کا تعلق فطرت انسانی سے ہوتا ہے۔ اور وہ حقائق ایسے ہوتے ہیں جو ہر فطرت سلیمہ سے اپنے آپ کو خود تسلیم کراتے ہیں ۔ ان حقائق اور مشاہدات کے اشارات اس قدر مضبوط ہوتے ہیں کہ ان کی گرفت سے انسان بمشکل نکل سکتا ہے ۔ اور ان سے دامن چھڑانے کے لئے اسے انتہائی محنت ، مشقت ، کبر و غرور اور عناد ومکابرہ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اعتقادات اور ایمانیات کے علاوہ بھی انسانی زندگی کے وہ معاملات جن پر حیات انسانی مکمل طور پر موقوف ہے ، ان میں بھی انسان راہ فطرت اپناتا ہے اور اشارات فطرت کے دائرے میں رہتا ہے ۔ مثلاً تلاش معاش ، ہوا ، پانی ، تناسل وتکاثر وغیرہ ان اہم معاملات میں بھی انسان کو اپنے حال پر نہیں چھوڑا گیا ۔ یہاں تک کہ اس کی سوچ مکمل اور پختہ ہوگئی ۔ اس کا علم ترقی کر گیا اور پختہ ہوگیا۔ اگر اسے یونہی چھوڑ دیا جاتا تو وہ کب کا ہلاک وبرباد ہوگیا ہوتا۔ ایمان انسان کے لئے اسی قدر اہم اور ضروری ہے جس قدر اس کی زندگی کے لئے کھانا ، پینا اور ہوا ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان موضوعات پر اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کے تقاضوں کے مطابق بات کرتا ہے اور ایسے آثار و شواہد پیش کرتا ہے جو انسان کے اردگرد صفحہ کائنات پر پھیلے ہوئے ہیں ۔
Top