Tafseer-e-Usmani - Al-Baqara : 79
وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ
وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا لَنْ تَمَسَّنَا : ہرگز نہ چھوئے گی النَّارُ : آگ اِلَّا : سوائے اَيَّامًا : دن مَعْدُوْدَةً : چند قُلْ اَتَّخَذْتُمْ : کہ دو کیا تم نے لیا عِنْدَ اللہِ : اللہ کے پاس عَهْدًا : کوئی وعدہ فَلَنْ يُخْلِفَ اللّٰہُ : کہ ہرگز نہ خلاف کرے گا اللہ عَهْدَهُ : اپنا وعدہ اَمْ : کیا تَقُوْلُوْنَ : تم کہتے ہو عَلَى اللہِ : اللہ پر مَا لَا تَعْلَمُوْنَ : جو تم نہیں جانتے
سو خرابی ہے ان کو جو لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھ سے پھر کہہ دیتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے تاکہ لیویں اس پر تھوڑا سا مول سو خرابی ہے ان کو اپنے ہاتھوں کے لکھے سے اور خرابی ہے ان کو اپنی اس کمائی سے5
5  یہ وہ لوگ ہیں جو ان عوام جاہلوں کے موافق باتیں اپنی طرف سے بنا کر لکھ دیتے تھے اور خدا کی طرف ان باتوں کو منسوب کرتے۔ مثلاً تورات میں لکھا تھا کہ پیغمبر آخرالزمان خوبصورت پیچواں بال ' سیاہ آنکھیں ' میانہ قد ' گندم رنگ پیدا ہوں گے ' انہوں نے پھیر کر یوں لکھا " لمبا قد ' نیلی آنکھیں ' سیدھے بال " تاکہ عوام آپ کی تصدیق نہ کرلیں اور ہمارے منافع دنیاوی میں خلل نہ آجائے۔
Top