Mazhar-ul-Quran - Al-Waaqia : 76
اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ
اَفَبِھٰذَا الْحَدِيْثِ : کیا بھلا اس بات کے بارے میں اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ : تم معمولی سمجھنے والے ہو۔ انکار کرنے والے ہو
اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ : ” روح میرے پروردگار کے حکم سے ایک چیز ہے اور تمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا “
روح کا بیان شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ یہود نے آنحضرت ﷺ کے پاس مشرکین کو بھیجا کہ وہ آپ سے تین سوال کریں۔ (1) روح کیا چیز ہے۔ (2) ذوالقرنین کی بابت۔ (3) اصحاب کہف کا قصہ۔ اور یہ کہا دیا تھا کہ اگر آپ دو باتیں بتا دیں تو سمجھ لینا کہ آپ نبی ہیں۔ چناچہ ان لوگوں نے آ کر سوال کیا تو وہ دونوں سوالات تو پورے پورے بیان کئے اور روح کی بابت یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ آپ سے یہ لوگ روح کی کیفیت پوچھتے ہیں، ان سے کہہ دیں کہ روح کی کیفیت کے معلوم کرنے کی طاقت انسان میں نہیں ہے۔ پہلے بھی پیغمبروں نے باریک باتیں لوگوں سے نہیں کیں، اتنا جاننا کافی ہے کہ خدا کے حکم سے ایک چیز جسم میں داخل ہوتی ہے، تو وہ جی اٹھتا ہے اور جب نکلتی ہے مر جاتا ہے۔
Top