Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Baqara : 72
وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ
وَاذْكُرُوْٓا : اور تم یاد کرو اِذْ : جب جَعَلَكُمْ : تمہیں بنایا اس نے خُلَفَآءَ : جانشین مِنْۢ بَعْدِ : بعد عَادٍ : عاد وَّبَوَّاَكُمْ : اور تمہیں ٹھکانا دیا فِي : میں الْاَرْضِ : زمین تَتَّخِذُوْنَ : بناتے ہو مِنْ : سے سُهُوْلِهَا : اس کی نرم جگہ قُصُوْرًا : محل (جمع) وَّتَنْحِتُوْنَ : اور تراشتے ہو الْجِبَالَ : پہاڑ بُيُوْتًا : مکانات فَاذْكُرُوْٓا : سو یاد کرو اٰلَآءَ : نعمتیں اللّٰهِ : اللہ وَلَا تَعْثَوْا : اور نہ پھرو فِي الْاَرْضِ : زمین (ملک) میں مُفْسِدِيْنَ : فساد کرنے والے (فساد کرتے)
مومنو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے
(208 ۔ 209) ۔ بعض اہل کتاب جو اسلا لے آئے تھے انہوں نے آنحضرت ﷺ سے ایک دن عرض کیا کہ اگر آپ اجازت دے دیں تو ہمارا جی چاہتا ہے کہ جس طرح ہفتہ کے دن کی تعظیم ہم لوگ یہود ہو کر ادا کیا کرتے تھے ایک رات ہم پھر وہ رسم ادا کرلیں اور رات تورات کی چند آیتوں کے موافق عمل کرنے کا ہمارے دین میں حکم تھا وہ بھی بجا لائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ناسخ حکم کے معلوم ہوجانے کے بعد منسوخ حکم پر عمل کرنے کا خیال دل میں لانا شیطان کی پیروی ہے اللہ کے حکم کی پیروی نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ سِلْمُ کے معنی اس آیت میں اسلام کے ہیں۔
Top