Madarik-ut-Tanzil - Nooh : 4
وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ
وَاِنِّىْ : اور بیشک میں نے كُلَّمَا : جب کبھی دَعَوْتُهُمْ : میں نے پکارا ان کو لِتَغْفِرَ لَهُمْ : تاکہ تو بخش دے ان کو جَعَلُوْٓا : انہوں نے ڈال لیں اَصَابِعَهُمْ : اپنی انگلیاں فِيْٓ اٰذَانِهِمْ : اپنے کانوں میں وَاسْتَغْشَوْا : اور اوڑھ لیے۔ ڈھانپ لیے ثِيَابَهُمْ : کپڑے اپنے وَاَصَرُّوْا : اور انہوں نے اصرار کیا وَاسْتَكْبَرُوا : اور تکبر کیا اسْتِكْبَارًا : تکبر کرنا
وہ تمہارے گناہ بخش دیگا اور (موت کے) وقت مقرر تک تم کو مہلت عطا کرے گا جب خدا کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی کاش تم جانتے ہوتے
4 : یَغْفِرْلَکُمْ (وہ معاف کردے گا) یہ امرکا جواب ہے مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ (تمہارے گناہ) مِنْ بیانیہ ہے جیسا کہ اس آیت میں فاجتنبوا الرجس من الاوثان نمبر 2۔ من تبعیضیہ ہے۔ کیونکہ حقوق اللہ معاف ہوجاتے ہیں جو مخلوق کے حقوق ہوتے ہیں وہ اسلام کے بعد بھی قابل مواخذہ ہیں۔ مثلاً قصاص (کذا فی شرح التاویلات) وَیُؤَ خِّرْ کُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (اور تم کو وقت مقررہ تک مہلت دے گا) اجل مسمی سے وقت موت مراد ہے۔ اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَآ ئَ لَایُؤَخَّرُ لَوْکُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجائے گا تو ٹلے گا نہیں۔ کیا خوب ہوتا اگر تم سمجھتے) اجل اللہ ؔ سے موت مراد ہے۔ لو کنتم تعلمون کاش تمہیں معلوم ہوجائے کہ مقرروقت کے اختتام پر تمہیں کتنی بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا ہوگا تو تم ایمان لے آتے۔ ایک قول یہ ہے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ قوم نوح اگر ایمان لائے گی تو ان کو ایک ہزار سال عمر ملے گی۔ اور اگر وہ ایمان نہ لائے تو ان کو نو سو سال کے اختتام پر ہلاک کردیا جائے گا۔ پس ان کو کہا جا رہا ہے کہ تم ایمان لائو تاکہ اجل مقررہ تک تمہیں مؤخر کردیا جائے۔ یعنی ایک ہزار سال کی مدت پالو۔ پھر ان کو خبر دی۔ کہ جب ہزار سال گزرجائیں گے تو وہ وقت ایسا نہیں کہ اس کو مؤخر کردیا جائے جیسا کہ پہلا مؤخر کیا گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی طرف سے خطرہ محسوس کرتے تھے کہ اگر وہ ایمان لا کر دعوت نوح کو قبول کرلیں گے تو ان کی قوم ان کو ہلاک کر دے گی۔ تو گویا نوح (علیہ السلام) نے ان کو اس سلسلہ میں مطمئن کیا اور ان سے وعدہ فرمایا ایمان لا کر وہ دنیا میں اپناوقت مقررہ کو ضرور پورا کریں گے۔ مطلب یہ ہوا۔ اگر اسلام لے آئو گے تو اپنے دشمنوں سے اپنی موت کے وقت تک زندہ رہو گے۔
Top