Mufradat-ul-Quran - Az-Zumar : 26
یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
يَغْفِرْ لَكُمْ : بخش دے گا تمہارے لیے مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ : تمہارے گناہوں میں سے وَيُؤَخِّرْكُمْ : اور مہلت دے گا تم کو اِلٰٓى : تک اَجَلٍ مُّسَمًّى : مقرر وقت تک اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ : بیشک اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت اِذَا جَآءَ : جب آجاتا ہے لَا يُؤَخَّرُ : تو ڈھیل نہیں دی جاتی۔ تاخیر نہیں کی جاتی لَوْ كُنْتُمْ : اگر ہو تم تَعْلَمُوْنَ : تم جانتے
پس اللہ نے انھیں دنیا کی زندگی میں رسوائی چکھائی اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ بڑا ہے۔ کاش ! وہ جانتے ہوتے۔
فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِــزْيَ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ۔۔ : دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ان عذابوں کے ذریعے سے انھیں رسوائی چکھائی اور آخرت کا عذاب ان سے کہیں زیادہ بڑا ہے، کیونکہ آخرت کی آگ دنیا کی آگ سے ستر (70) گنا زیادہ حرارت والی ہے، پھر دنیا کا عذاب تو ختم ہونے والا ہے، مگر آخرت کا عذاب ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ آخرت کا عذاب رسوائی میں بھی کہیں زیادہ ہے۔ دیکھیے سورة حمٰ السجدہ (16)۔ ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْن : یعنی وہ یہ بات جانتے ہی نہ تھے کہ آخرت کا عذاب کہیں زیادہ بڑا ہے، ورنہ وہ اس سے بےخوف نہ ہوتے۔ معلوم ہوا کہ اگر انھوں نے علم کے باوجود نافرمانی کی تو حقیقت میں وہ علم نہ تھا بلکہ جہل تھا، کیونکہ علم وہ ہے جو عمل پر آمادہ کرے۔
Top