Aasan Quran - An-Nisaa : 8
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ
قَالَ رَبِّ : اس نے کہا اے میرے رب اِنِّىْ : بیشک میں نے دَعَوْتُ : میں نے پکارا قَوْمِيْ : اپنی قوم کو لَيْلًا وَّنَهَارًا : رات کو اور دن کو
جب جب میں نے انکو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے
قوم کی کیفیت : 7 : وَاِنِّیْ کُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ (اور میں نے جب کبھی ان کو بلایا) تاکہ وہ آپ پر ایمان لائیں۔ لِتَغْفِرَلَھُمْ (تاکہ آپ ان کو بخش دیں) تاکہ وہ ایمان قبول کرلیں اور آپ ان کو بخش دیں۔ یہاں مسبب کے تذکرہ پر اکتفاء کیا گیا۔ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَھُمْ فِیْ اٰذَانِھِمْ (تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے ڈالیں) انہوں نے اپنے کانوں کو بند کرلیا تاکہ وہ میری بات سننے نہ پائیں۔ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَا بَہُمْ (اور اپنے کپڑے لپیٹ لیے) انہوں نے اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانپ لیا تاکہ وہ مجھے نہ دیکھ پائیں۔ اس لئے کہ وہ دین کے داعی کے چہرے کو دیکھنا بھی پسند نہ کرتے تھے۔ وَاَصَرُّوْا (اور انہوں نے اصرار کیا) وہ اپنے کفر پر قائم رہے۔ وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا (اور انہوں نے غایت درجہ کا تکبر کیا) مجھے جواب دینے سے اپنے کو بڑا سمجھا۔ نکتہ : مصدر کو لانا اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ وہ استکبار میں بہت ہی آگے جانے والے تھے۔
Top