Tafseer-e-Majidi - Al-Baqara : 26
مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ
مَنْ ۔ کَانَ : جو۔ ہو عَدُوًّا لِلّٰهِ : دشمن وَمَلَآئِکَتِهٖ ۔ وَرُسُلِهٖ : اور اس کے فرشتے۔ اور اس کے رسول وَجِبْرِیْلَ : اور جبرئیل وَمِیْکَالَ : اور میکائیل فَاِنَّ اللہ : تو بیشک اللہ عَدُوٌّ : دشمن لِلْکَافِرِينَ : کافروں کا
اور جب پانی مانگا موسیٰ نے اپنی قوم کے واسطے تو ہم نے کہا مار اپنے عصا کو پتھر پر سو بہہ نکلے اس سے بارہ چشمے2 پہچان لیا ہر قوم نے اپنا گھاٹ کھاؤ اور پیو اللہ کی روزی اور نہ پھرو ملک میں فساد مچاتے3
2 یہ قصّہ بھی اسی جنگل کا ہے پانی نہ ملا تو ایک پتھر پر عصا مارنے سے بارہ چشمے نکلے اور بنی اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ کسی قوم میں آدمی زیادہ کسی میں کم ہر قوم کے موافق ایک چشمہ تھا اور وجہ شناخت بھی یہی موافقت تھی یا یہ مقرر کر رکھا تھا کہ پتھر کی فلاں جہت فلاں جانب سے جو چشمہ نکلے گا وہ فلاں قوم کا ہوگا اور جو کوتاہ نظر ان معجزات کا انکار کرتے ہیں۔ نیستند آدم غلاف آدم اند دیکھو مقناطیس تو لوہے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اس پتھر نے پانی کھینچ لیا تو انکار کی کیا وجہ۔ 3 یعنی پھر فرمایا حق تعالیٰ نے کھاؤ من وسلویٰ اور پیو ان چشموں کا پانی اور عالم میں فساد مت پھیلاؤ۔
Top