Bayan-ul-Quran - Al-Waaqia : 46
وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ
وَكَانُوْا : اور تھے وہ يُصِرُّوْنَ : اصرار کرتے عَلَي الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ : بڑے گناہ پر
اور وہ گناہ عظیم پر مصر رہتے تھے
وہ گناہ عظیم پر مصر رہتے تھے 46۔ گزشتہ آیت میں جن لوگوں کو { مترفین } کہا گیا ہے وہ لوگ ہیں جو گناہ کی باتوں پر مصر رہتے تھے اور قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ جو قیامت کا ذکر بار بار کرتا ہے قیامت ویامت کچھ نہیں ہے ایک بار اس دنیا سے جانے کے بعد نہ کوئی آیا ہے اور نہ ہی آئے گا۔ دوبارہ زندہ ہونا محض ایک کہانی ہے۔ اسی طرح رسالت کا بھی وہ انکار کرتے تھے اور قسمیں کھا کھا کر اس کو مؤکد کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے جو فطری عہد ان لوگوں نے کیا تھا اس کو توڑنے کے درپے تھے۔ گویا ان کی حالت ایسی تھی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ فلاں آدمی کیا آدمی ہے کہ چور بھی ہے چتر بھی ؟ { یصرون } جمع مذکر غائب مضارع اصرار سے یعنی وہ اڑے ہوئے تھے یا بضد تھے کہ نہ تو اپنے آپ کو نبی و رسول کہنے والا نبی و رسول ہے اور نہ ہی قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور نہ ہی قیامت ویامت کی کوئی بات ہے۔ یہ جو کچھ موجود تھے اور اب بھی صورت حال وہی ہے جو اس وقت تھی۔
Top