Tafseer-e-Mazhari - Al-Israa : 31
اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠   ۧ
اِنَّ : بیشک رَبَّكَ : تیرا رب يَبْسُطُ : فراخ کردیتا ہے الرِّزْقَ : رزق لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کا وہ چاہتا ہے وَيَقْدِرُ : اور تنگ کردیتا ہے اِنَّهٗ : بیشک وہ كَانَ : ہے بِعِبَادِهٖ : اپنے بندوں سے خَبِيْرًۢا : خبر رکھنے والا بَصِيْرًا : دیکھنے والا
اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرنا۔ (کیونکہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے
وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ: اور اپنی اولاد کو یعنی لڑکیوں کو محتاجی کے کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ ہم ان کو بھی رزق عطا کریں گے اور تم کو بھی۔ سب کو رزق دینے کی ہماری ذمہ داری ہے۔ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا : ان کو قتل کرنا یقیناً بڑا جرم ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا سب سے بڑا کون سا گناہ ہے۔ فرمایا (سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ) اللہ کے مثل دوسروں کو قرار دے باوجودیکہ اللہ ہی نے تجھے پیدا کیا ہے ‘ میں نے عرض کیا یہ بیشک بڑا گناہ ہے اس کے بعد کون سا گناہ ہے فرمایا اپنی اولاد کو خود قتل کرنا یا اس اندیشے سے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں شریک ہوجائے گی۔ میں نے عرض کیا اس کے بعد کون سا (گناہ) ہے فرمایا اپنے ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرنا۔ متفق علیہ۔
Top