Tafseer-e-Madani - Al-Waaqia : 40
وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ
وَثُلَّةٌ : اور ایک بڑا گروہ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ : پچھلوں میں سے
اور بہت سے پچھلوں میں سے
[ 37] اصحاب یمین کی نشاندہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بہت سے پہلوں میں سے ہوں گے اور بہت سے پچھلوں میں سے۔ یعنی اصحاب الیمین کی ایک بڑی جماعت پہلی امتوں کے مومنوں میں سے ہوگی اور ایک بڑی جماعت امت محمدیہ کے مومنوں کی، [ المراغی، الصفوۃ وغیرہ ] جبکہ دوسرا قول بعض اہل علم کا اس بارے میں یہ ہے کہ یہاں پر اگلے پچھلوں سے مراد اسی امت کے اگلے پچھلے ہیں، جس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قیامت تک جتنے بھی مسلمان اس دنیا میں آئیں گے، ان میں سے ایسے لوگ برابر نکلتے رہیں گے جن کا شمار اصحاب الیمین کے طبقہ میں ہوگا، اور قیامت کے دن وہ سب ایک ہی گروہ کی حیثیت حاصل کریں گے، جو اپنے ایمان و یقین، راہ حق پر صبر و استقامت، اور نیک اعمال اور عدمہ اخلاق کی بنا پر حق تعالیٰ کی ان عظیم الشان نعمتوں کے مستحق ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین، اللّٰہم زدنا ایمانا بک ویقنا، وحبا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصینا الیٰ ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حال من الاحوال، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یا ذا الجلال والاکرام،
Top