Tafseer-e-Majidi - Al-Waaqia : 40
وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ
وَثُلَّةٌ : اور ایک بڑا گروہ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ : پچھلوں میں سے
اور ایک بڑا گروہ پچھلوں میں سے بھی،13۔
13۔ یعنی عام مومنین اسی امت کے بھی بڑی کثرت سے ہوں گے۔” مقربین کی جزاء میں وہ سامان عیش زیادہ مذکور ہے جو اہل شہر کو زیادہ مرعوب ہے۔ اور اصحب الیمین “ کی جزا میں وہ سامان عیش زیادہ مذکور ہے جو اہل قریہ کو زیادہ مرغوب ہے۔ پس اشارہ اس طرف ہوگیا کہ ان میں ایسا تفاوت ہوگا جیسا اہل شہر واہل قریہ میں “۔ (تھانوی (رح)) ” اور بعض روایات میں جو آیا ہے، ھما جمیعان ھذہ الایۃ۔ یہ اس طور پر ماول ہے کہ مقصود تفسیر آیت کی نہ ہو بلکہ مطلب یہ ہو کہ جس طرح قرآن میں مذکور ہے کہ اولین میں مقربین زیادہ ہیں اور آخرین میں کم، اسی طرح خود اس آیت میں بھی یہی نسبت ہوگی کہ قرون اولی میں مقربین زیادہ ہوں گے۔ اور متاخرین میں کم۔ گویہ قرآن کا مدلول نہ ہو۔ “ (تھانوی (رح)) (آیت) ’ ثلۃ۔ من الاولین۔ من الاخرین “۔ ان سب پر حاشیے ابھی قریب ہی میں گزر چکے۔
Top