Ruh-ul-Quran - Al-Baqara : 277
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ
فَاِنْ : پھر اگر لَّمْ تَفْعَلُوْا : تم نہ چھوڑو گے فَاْذَنُوْا : تو خبردار ہوجاؤ بِحَرْبٍ : جنگ کے لیے مِّنَ : سے اللّٰهِ : اللہ وَرَسُوْلِهٖ : اور اس کا رسول وَاِنْ : اور اگر تُبْتُمْ : تم نے توبہ کرلی فَلَكُمْ : تو تمہارے لیے رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ : تمہارے اصل زر لَا تَظْلِمُوْنَ : نہ تم ظلم کرو وَلَا تُظْلَمُوْنَ : اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ‘ نماز کا اہتمام کیا اور زکوۃ ادا کی ‘ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے۔ نہ ان کے لیے کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی غم لاحق ہوگا
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا یَحْزَنُوْنَ ۔ (بےشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ‘ نماز کا اہتمام کیا اور زکوۃ ادا کی ‘ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے۔ نہ ان کے لیے کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی غم لاحق ہوگا) (277) قرآن کریم نے اپنے اسلوب کے مطابق سود خوروں کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کا انجام ذکر فرمایا ہے جو بالکل ان بدبختوں کے برعکس اللہ کے ایک ایک حکم پر یقین رکھتے ہیں ‘ پنج وقتہ نماز میں اس سے وفاداری کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے مال سے زکوۃ دیتے ہیں اور اس طرح ثابت کرتے ہیں کہ وہ مال ان کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کا ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کے اجر کا ذکر فرمایا ہے اور یہ وہ تعبیر ہے جس کی اس سے پہلے کئی دفعہ وضاحت ہوچکی ہے۔
Top