Aasan Quran - Al-Waaqia : 80
وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا
وَاِذَا : اور جب حَضَرَ : حاضر ہوں الْقِسْمَةَ : تقسیم کے وقت اُولُوا الْقُرْبٰي : رشتہ دار وَالْيَتٰمٰى : اور یتیم وَالْمَسٰكِيْنُ : اور مسکین فَارْزُقُوْھُمْ : تو انہیں کھلادو (دیدو) مِّنْهُ : اس سے وَقُوْلُوْا : اور کہو لَھُمْ : ان سے قَوْلًا : بات مَّعْرُوْفًا : اچھی
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اسے زمین کے سوتوں میں پرو دیا ؟ (11) پھر وہ اس پانی سے ایسی کھیتیاں وجود میں لاتا ہے جن کے رنگ مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں سو کھ جاتی ہیں تو تم انہیں دیکھتے ہو کہ پیلی پڑگئی ہیں، پھر وہ انہیں چورا چورا کردیتا ہے۔ یقینا ان باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑا سبق ہے جو عقل رکھتے ہیں۔
11: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آسمان سے پانی پہاڑوں پر برستا ہے، پھر وہاں سے پگھل پگھل کر دریاؤں اور ندیوں کی شکل اختیار کرتا ہے، اور زمین کی تہہ میں سوتوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کے شروع میں پانی پیدا کیا، اور اسے آسمان سے اتار کر براہ راست زمین کے سوتوں تک پہنچا دیا (روح المعانی)۔
Top