Tafseer-e-Baghwi - Al-Baqara : 28
وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ
وَاِذْ : اور جب قَالَ : کہا رَبُّکَ : تمہارے رب نے لِلْمَلَائِکَةِ : فرشتوں سے اِنِّیْ : میں جَاعِلٌ : بنانے والا ہوں فِي الْاَرْضِ : زمین میں خَلِیْفَةً : ایک نائب قَالُوْا : انہوں نے کہا اَتَجْعَلُ : کیا آپ بنائیں گے فِیْهَا : اس میں مَنْ يُفْسِدُ : جو فساد کرے گا فِیْهَا : اس میں وَيَسْفِكُ الدِّمَآءَ : اور بہائے گا خون وَنَحْنُ : اور ہم نُسَبِّحُ : بےعیب کہتے ہیں بِحَمْدِکَ : آپ کی تعریف کے ساتھ وَنُقَدِّسُ : اور ہم پاکیزگی بیان کرتے ہیں لَکَ : آپ کی قَالَ : اس نے کہا اِنِّیْ : بیشک میں اَعْلَمُ : جانتا ہوں مَا : جو لَا تَعْلَمُوْنَ : تم نہیں جانتے
(کافرو ! ) تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے
(تفسیر) 28۔ (آیت)” کیف تکفرون باللہ “ ؟ دلیلوں کے قائم ہونے اور برہان کے واضح ہونے کے بعد تم ذات باری تعالیٰ کا انکار کیسے کرو گے ۔ (آیت)” وکنتم امواتا “ اپنے باپوں کی پیٹھ میں نطفے تھے ۔ (آیت)” فاحیاکم “ رحم (مادر) میں اور دنیا میں (آیت)” ثم یمیتکم “ (تمہیں موت دے گا) جب تمہاری مدت عمر گزر جائے گی ۔ (آیت)” ثم یحییکم “ (تمہیں زندہ کرے گا) آخرت میں اٹھنے کے لیے (آیت)” ثم الیہ ترجعون “ یعنی آخرت میں لوٹائے جاؤ گے پس (اللہ تعالیٰ ) تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق بدلہ دیں گے ، حضرت یعقوب نے (ترجعون) پورے قرآن میں ” یرجعون ترجعون “ میں یاء اور تاء کی زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں ، یعنی فعل کو معروف پڑھ کر فاعل کا نام لیا گیا ، قول خداوندی ۔
Top