Anwar-ul-Bayan - Al-Waaqia : 48
اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ
اَوَاٰبَآؤُنَا : کیا بھلا ہمارے آباؤ اجداد الْاَوَّلُوْنَ : پہلے (بھی)
اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی ؟
(56:48) او اباء نا الاولون : أ ہمزہ استفہامیہ انکاریہ ہے واؤ عاطفہ ہے۔ جس کا عطف جملہ محذوف پر ہے۔ ایء انا لمبعوثون واباء نا الاولون۔ کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ہمارے اولین باپ دادا بھی۔ جملہ استفہام انکاریہ ہے۔ اباء نا مضاف مضاف الیہ ہمارے آباء و اجداد۔ باپ دادے، الاولون ہم سے پہلے ، ہمارے اگلے، اسلاف۔ آیت 47 میں ائذا متنا اورء انا میں ہمزہ استفہامیہ کے تکرار کے متعلق اور آیت 48 میں واؤ عاطفہ پر ہمزہ استفہامیہ داخل کرنے کے متعلق بیضاوی میں ہے۔ ہمزہ کا تکرار بعث سے مطلقاً انکار کی دلیل ہے یعنی اگر ہمزہ کو دوبارہ نہ لایا جاتا تو انکار بعث محض مٹی اور ہڈیاں کے دوبارہ جی اٹھنے پر محدود رہ جاتا ہے یا میت کے مٹی اور ہڈیاں ہونے تک۔ بعث کے متعلق انکار کے لئے ہمزہ استفہامیہ انکاریہ کو دوبارہ لایا گیا ہے۔ ایسے ہی اواباء نا میں ہمزہ کو واؤ عاطفہ سے قبل لایا گیا۔ گویا کہ انہوں (منکرین بعث) نے کہا ہو کہ ہمیں اس سے انکار ہے کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جاویں گے۔ اور ہمارے باپ دادا کا دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جانا تو اس سے بھی زیادہ قابل انکار ہے۔
Top