Tafseer-e-Usmani - An-Nisaa : 10
اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا
اَقِمِ : قائم کریں آپ الصَّلٰوةَ : نماز لِدُلُوْكِ : ڈھلنے سے الشَّمْسِ : سورج اِلٰى : تک غَسَقِ : اندھیرا الَّيْلِ : رات وَ : اور قُرْاٰنَ : قرآن الْفَجْرِ : فجر (صبح) اِنَّ : بیشک قُرْاٰنَ الْفَجْرِ : صبح کا قرآن كَانَ : ہے مَشْهُوْدًا : حاضر کیا گیا
جو لوگ کہ کھاتے ہیں مال یتیموں کا ناحق وہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب داخل ہو نگے آگ میں7
7 آیات متعددہ سابقہ میں یتیموں کے مال کے متعلق مختلف طرح سے احتیاط کرنے کا حکم تھا اور ان کے مال میں خیانت کو بڑا گناہ بتایا گیا ہے، اب اخیر میں مال یتیم میں خیانت کرنے پر وعید شدید بیان فرما کر اس حکم کو خوب مؤکد کردیا کہ جو کوئی یتیم کا مال بلا استحقاق کھاتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔ یعنی اس کھانے کا یہ انجام ہوگا اور جملہء اخیر میں اس کو ظاہر کردیا گیا۔
Top