Maarif-ul-Quran - An-Nisaa : 10
وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ
وَلَئِنْ : اور اگر شِئْنَا : ہم چاہیں لَنَذْهَبَنَّ : تو البتہ ہم لے جائیں بِالَّذِيْٓ : وہ جو کہ اَوْحَيْنَآ : ہم نے وحی کی اِلَيْكَ : تمہاری طرف ثُمَّ : پھر لَا تَجِدُ : تم نہ پاؤ لَكَ : اپنے واسطے بِهٖ : اس کے لیے عَلَيْنَا : ہمارے مقابلہ) پر وَكِيْلًا : کوئی مددگار
جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔
تتمہ حکم سابق۔ تحقیق جو لوگ ناحق یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں جزایں نیست وہ یہ مال کھا کر اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور البتہ ضرور داخل ہوں گے دھکتی ہوئی آگ میں یعنی اللہ تعالیٰ ان کو یتیموں کا ناحق مال کھانے کی سزا میں آگ کھلائے گا اور یہ شخص قیامت کے دن قبر سے اس طرح اٹھے گا کہ اس کے منہ اور کانوں اور آنکھوں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوں گے جو شخص بھی اس کو دیکھے گا وہ اس علامت سے پہچان لے گا کہ یہ ناحق یتیم کا مال کھانے والا ہے۔
Top