Urwatul-Wusqaa - Al-Waaqia : 52
لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ
لَاٰكِلُوْنَ : البتہ کھانے والے ہو مِنْ شَجَرٍ : ایک درخت سے مِّنْ زَقُّوْمٍ : زقوم کے
یقینا تھوہر کے درخت سے کھانا ہو گا
یقینا تھوہر کے درخت سے تم کو کھانا ہو گا 52۔ { زقوم } تھوہر (Cactus) کے درخت کو کہتے ہیں جو نہایت کڑوا ہوتا ہے ‘ اتنا کڑوا کہ اگر اس کو ہاتھ چھو جائے تو کئی دن تک اس کی کرواہٹ دور نہ ہو کھانا تو خیر کھانا ہے اس کا دیکھنا بھی بہت کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کو دیکھنے سے بھی نفرت ہونے لگتی ہے اس لیے دو زخیوں کو وہ کھانے کے لیے پیش کیا جائے گا جو لاریب بطور عذاب ہوگا اور ان کو مجبور کیا جائے گا پھر یہ تو اس دنیا کے درخت کی حالت ہے دوزخ میں اس کی حالت کیا ہوگی یقینا اس سے بھی بہت بڑی یہی وجہ ہے کہ روایات میں آیا ہ ہے کہ اس کا ایک قطرہ بھی سمندر میں ڈال دیا جائے تو وہ سمندر کو کڑوا کر دے جس سے زمین پر بسنے والوں کی زندگیاں خراب ہوجائیں پھر اس کو جب کھانا پڑے گا تو ان کی حالت کیا ہوگی ؟ اللہ معاف فرمائے۔ اس کی وضاحتعروۃ الوثقی جلد ہفتم سورة الصافات کی آیت 60 تا 67 میں کرچکے ہیں۔
Top