Tafseer-al-Kitaab - An-Nisaa : 75
فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا
فَلْيُقَاتِلْ : سو چاہیے کہ لڑیں فِيْ : میں سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کا راستہ الَّذِيْنَ : وہ جو کہ يَشْرُوْنَ : بیچتے ہیں الْحَيٰوةَ : زندگی الدُّنْيَا : دنیا بِالْاٰخِرَةِ : آخرت کے بدلے وَ : اور مَنْ : جو يُّقَاتِلْ : لڑے فِيْ : میں سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کا راستہ فَيُقْتَلْ : پھر مارا جائے اَوْ : یا يَغْلِبْ : غالب آئے فَسَوْفَ : عنقریب نُؤْتِيْهِ : ہم اسے دیں گے اَجْرًا عَظِيْمًا : بڑا اجر
(مسلمانو، ) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو (ظالموں کے تشدد سے عاجز آ کر) فریاد کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم کو اس بستی سے نجات دلا جہاں کے رہنے والے (ہم پر) ظلم کر رہے ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی اور مددگار کھڑا کردے۔
[53] مکہ میں کچھ ایسے مسلمان رہ گئے تھے جو اپنے ضعف جسمانی و کم سامانی کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکتے تھے اور نہ اپنے آپ کو کفار کے ظلم سے بچا سکتے تھے۔ اس آیت میں انہی کا ذکر ہے۔
Top