تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 4. An-Nisaa · Ayah 75

  1. وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ﴿75﴾

    1. وَمَااور کیا
    2. لَكُمْتمہیں
    3. لَا تُقَاتِلُوْنَتم نہیں لڑتے
    4. فِيْمیں
    5. سَبِيْلِ اللّٰهِاللہ کا راستہ
    6. وَاور
    7. الْمُسْتَضْعَفِيْنَکمزور (بےبس)
    8. مِنَسے
    9. الرِّجَالِمرد (جمع)
    10. وَ النِّسَآءِاور عورتیں
    11. وَ الْوِلْدَانِاور بچے
    12. الَّذِيْنَجو
    13. يَقُوْلُوْنَکہتے ہیں (دعا)
    14. رَبَّنَآاے ہمارے رب
    15. اَخْرِجْنَاہمیں نکال
    16. مِنْسے
    17. ھٰذِهِاس
    18. الْقَرْيَةِبستی
    19. الظَّالِمِظالم
    20. اَهْلُھَااس کے رہنے والے
    21. وَاجْعَلْاور بنا دے
    22. لَّنَاہمارے لیے
    23. مِنْسے
    24. لَّدُنْكَاپنے پاس
    25. وَلِيًّۢادوست (حمایتی)
    26. وَّاجْعَلْاور بنادے
    27. لَّنَاہمارے لیے
    28. مِنْسے
    29. لَّدُنْكَاپنے پاس
    30. نَصِيْرًامددگار
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اُن بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
شیطان کے دوستوں سے جنگ لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنی راہ کے جہاد کی رغبت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ وہ کمزور بےبس لوگو جو مکہ میں ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی ہیں جو وہاں کے قیام سے اکتا گئے ہیں جن پر کفار نت نئی مصیبتیں توڑ رہے ہیں۔ جو محض بےبال و پر ہیں انہیں آزاد کراؤ، جو بےکس دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اسی بستی یعنی مکہ سے ہمارا نکلنا ممکن ہو، مکہ شریف کو اس آیت میں بھی قریہ کہا گیا ہے (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِىَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْٓ اَخْرَجَتْكَ ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ) 47۔ محمد :13) بہت سی بستیاں اس بستی سے زیادہ طاقتور تھیں جس بستی سے (یعنی وہاں کے رہنے والوں نے) تمہیں نکالا۔ اسی مکہ کے رہنے والے مسلمان کافروں کے ظلم کے شکایت بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنی دعاؤں میں کہہ رہے ہیں کہ اے رب کسی کو اپنی طرف سے ہمارا ولی اور مددگار بنا کر ہماری امداد کو بھیج۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس انہی کمزوروں میں تھے اور روایت میں ہے کہ آپ نے (اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَةً وَّلَا يَهْتَدُوْنَ سَبِيْلًا) 4۔ النسآء :98) پڑھ کر فرمایا میں اور میری والدہ صاحبہ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور رکھا۔ ارشاد ہے ایماندار اللہ تعالیٰ نے معذور رکھا۔ ارشاد ہے ایماندار اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اس کی رضا جوئی کے لئے جہاد کرتے ہیں اور کفار اطاعت شیطان میں لڑتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ شیطان کے دوستوں سے جو جو اللہ کے دشمن ہیں دل کھول کر جنگ کریں اور یقین مانیں کہ شیطان کے ہتھکنڈے اور اس کے مکر و فریب سب نقش برآب ہیں۔